انوارالعلوم (جلد 13) — Page 107
انوار العلوم جلد ۳ ۱۰۷ پکارنے والے کی آواز کامیابی کا منہ دیکھ سکتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو حاصل ہوئی ؟ ہاں ! کیا گاندھی جی کے الہام کے دعوی کے بعد جو ان کی حالت ہوئی اس تازہ نشان کو دیکھتے ہوئے تم کہہ سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہونے کا دعوی کرنا کوئی معمولی بات ہے اور خدا تعالیٰ اس پر کوئی گرفت نہیں کرتا ؟ اگر نہیں تو ئز دلی کو چھوڑو غفلت کو چھوڑو اور اسلام اور بانی اسلام کیلئے اپنی جانوں اور مالوں کو قربان کرنے کیلئے بچے بہادروں کی طرح جماعت احمدیہ میں شامل ہو جاؤ اور دیر نہ کرو کہ ایک ایک منٹ کی دیر اس وقت خطرناک ہے۔پھر میں کہتا ہوں کہ اے سمجھ رکھنے والے عقلمند و! کیا اس زمینی شہادت سے جو تمہارے دل دے رہے ہیں، بڑھ کر کوئی اور شہادت ہو سکتی ہے؟ انصاف سے کام لو اور سچ سچ کہہ دو کہ کیا تمہارے دل گواہی نہیں دیتے کہ تم اسلام سے دور جا پڑے ہو؟ اور یہ کہ اسلام کی وہ مدد اور نصرت خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہو رہی جو پہلے ہوتی تھی ؟ اگر یہ صحیح ہے اور یقینا صحیح ہے تو حق کو مت چھپاؤ عدل کو ہاتھ سے نہ دو تم لوگوں کو دھوکا دے سکتے ہو مگر اپنے نفسوں کو تو دھوکا نہیں دے سکتے۔اللہ تعالیٰ سے تمہارا معاملہ ہے جو دلوں کو جاننے والا ہے۔دنیا کی عزت کوئی چیز نہیں عزت وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملے۔حق کے قبول کرنے میں کونسی ہتک ہے؟ دیر نہ کرو اور حق کو قبول کر کے اسلام کی فتح کی گھڑی کو قریب تر کر دو۔یاد رکھو کہ بانی سلسلہ احمدیہ کی آواز اپنے لئے نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کیلئے بلند ہوئی ہے اور وہ خود سے نہیں بولے بلکہ خدا تعالیٰ نے انہیں بلایا تھا۔پس خدا تعالیٰ کی آواز سنو تا تمہاری فریادیں سنی جائیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے نام پر بولنے والے کی سنو تا تمہارے ناموں کی عزت قائم کی جائے۔وَاخِرُ دَعُونَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ خاکسار مرزا محمود احمد (خلیفۃ المسیح الثانی) قادیان ل الدر المنثور فى التفسير بالمأثور للامام جلال الدين السيوطى المجلد الثاني صفحه ۱۳۴۵۔بیروت لبنان ابن ماجه ابواب الفتن باب خروج المهدى