انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 92

انوار العلوم جلد ۱۳ ۹۲ میری ساره سلسلہ کیلئے ان کے دل میں بڑی غیرت تھی۔وہ کبھی پیغامیت کی روح کو سمجھ ہی نہیں سکیں۔سلسلہ کی کامیابیوں پر جو انھیں خوشی ہوتی وہ دیکھنے کے قابل ہوتی تھی۔ہمارے تعلقات شادی کے وقت سے چونکہ میں ان کے متعلق یہ وعدہ کر چکا تھا کہ سلسلہ کی خدمت کیلئے انہیں تیار کروں گا اس لئے عام طور پر ایسا رویہ اُن سے رکھا کہ دل دُنیوی خواہشات کی طرف مائل نہ ہو۔وہ بھی اس امر کو سمجھتیں اور کئی دفعہ پڑھائی کے دنوں میں اپنی باری کو چھوڑ دیتیں چنانچہ وفات سے پہلے بھی امتحان کی تیاری اور پھر امتحان کی وجہ سے باری چھٹی ہوئی تھی۔کمزور تھیں زیادہ خدمت نہ کر سکتی تھیں لیکن بوجہ سمجھدار ہونے کے جو کام کرتیں اچھا کرتیں۔ہم دونوں اپنے دل میں یہ خیال رکھتے تھے کہ ہمیں اپنی محبت کو اُس وقت تک دبائے رکھنا چاہئے کہ جب تک وہ تعلیم سے فارغ ہو جائیں۔وہ بوجہ کمزور ہونے کے بعض دفعہ اس سے زیادہ تکلیف محسوس کرتیں مگر پھر سمجھانے سے سمجھ جاتیں۔درحقیقت چند راتوں کے سوا انہوں نے حقیقی معنوں میں شادی کی زندگی کا لطف نہیں دیکھا اور ان کی زندگی معنوی رنگ میں کنوارپنے کی زندگی کہلانی چاہئے۔مجھ میں اور ان میں ایک اختلاف رہتا تھا۔مجھے اس امر سے نفرت ہے کہ میری بیوی اپنی ضرورت کو لکھ کر پیش کرے ان کو بوجہ ادب کے زبانی بات کرنے سے حجاب تھا اس وجہ سے کئی دفعہ بدمزگی ہو جاتی۔میں مُصر تھا کہ جو کچھ کہنا ہو زبانی کہو اور وہ بوجہ حجاب پھر تحریر کی طرف متوجہ ہو جاتیں۔اس کے سوا مجھے نہیں یاد کہ کوئی اہم اختلاف طبائع میں ہو۔باقی چھوٹے موٹے اختلاف تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔مٹھائی کے متعلق جو اوپر واقعہ لکھ آیا ہوں وہ بھی جو ہر کے لحاظ سے اسی قسم کے واقعات میں سے ہے۔سارہ بیگم کی وفات تعلیم اور فکروں نے کمزور کر دیا تھا ، جسم نحیف اب اس دنیا کے بوجھ اُٹھانے کی زیادہ طاقت نہیں رکھتا تھا میرا ارادہ تھا کہ جلد انہیں لے کر کسی پہاڑ پر جاؤں کہ کشمیر کمیٹی کے کام کی وجہ سے ایک ہفتہ سفر ملتوی کرنا پڑا ، اتنے میں عزیزم کیپٹین تقی الدین احمد صاحب کی طرف سے پیغام آیا کہ آپ میری ہمشیرہ کو لے کر چند دن کیلئے آئیں انہیں ان کی ملاقات کیلئے راولپنڈی لے گیا۔میرے جانے کے دوسرے دن بعد بھاگلپور سے بچے آئے چونکہ موٹر میرے ساتھ گئی ہوئی تھی بچوں کے کپڑے لینے کیلئے گھر آئیں چونکہ حمل کی وجہ سے تکلیف پہلے سے تھی پیدل گھر آنے اور کپڑے نکالنے کے کام سے تکلیف بڑھ گئی۔اگر وہاں سے ہی واپس چلی جاتیں تو شاید تکلیف اس قدر نہ ہوتی۔بچوں کو حضرت (اماں