انوارالعلوم (جلد 13) — Page 91
انوار العلوم جلد ۱۳ ۹۱ میری ساره استدلال کر سکتی تھیں ، بحث مباحثہ بھی کر لیتی تھیں ، طبیعت میں ضد نہ تھی ، اگر معقول بات کی جائے تو اسے تسلیم کر لیتی تھیں، فضول خرچ نہ تھیں، ہمیشہ اپنی آمد کے مطابق خرچ کرتیں ، بعض ہم عصر کنجوسی وغیرہ کا الزام لگا تیں لیکن اس کی پرواہ نہ کرتیں ، ہمیشہ اپنی آمد کے اندر خرچ رکھتیں۔امتہ الحی اس کے مقابل پر آمد سے زیادہ خرچ کر بیٹھتی تھیں۔اُن کی وفات پر سینکڑوں روپیہ قرض نکلا جو میں نے فوراً ادا کر دیا لیکن سارہ بیگم کی وفات پر ایک پیسہ کا قرض بھی جوان کے حساب میں ہواب تک میرے سامنے نہیں آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ادب انتہا درجہ کا تھا اور اس سبب سے حضرت اماں جان ) اور میری ہمشیرگان کا بھی بے حد ادب کرتی تھیں۔وفات سے آدھ گھنٹہ پہلے ان کی کمزوری کو دیکھ کر حضرت اماں جان ) پر رقت طاری ہو گئی تو با وجود اس کے کہ جان کنی کا وقت شروع ہونے والا تھا بے تاب ہو کر آپ کے گلے میں باہیں ڈال دیں اور رو کر کہا کہ اماں جان! آپ روئیں نہیں ، میں تو اب اچھی ہوں۔طبیعت میں جو ایک قسم کی خشکی تھی اس کی وجہ سے بیویوں کی طرح سے بے تکلفانہ بات نہیں کر سکتی تھیں۔وفات سے چند دن پہلے میں لاہور سے آیا اور بچوں کیلئے کچھ مٹھائی لایا اس میں سے دو چار ڈلیاں میرے ہاتھ میں تھیں دو بیویاں سامنے تھیں انہیں میں نے ایک ایک ڈلی دی پھر خود ایک ڈلی کھالی اور اس کی تعریف کی کہ یہ بہت اچھی ہے۔میری ایک بیوی نے ایک اور ڈلی میرے ہاتھ سے لے لی کہ یہ میں کھاؤں گی۔ایک ڈلی رہ گئی تھی وہ میں نے پاس میز پر یہ دیکھنے کیلئے رکھ دی کہ کیا سارہ بیگم وہ ڈلی لیتی ہیں۔وہ آگے بڑھیں کہ یہ میں کھاؤں گی اور میری طرف دیکھا۔چونکہ میں تو ان کا امتحان ہی کر رہا تھا میں خاموش ہو رہا۔پاس جا کر یہ کہتی ہوئی لوٹ آئیں کہ اچھا میں نہیں لیتی۔ان کے چہرہ سے صدمہ معلوم ہوتا تھا کہ میں نے کیوں نہیں کہا کہ تم شوق سے کھا لو اور میرا دل غمگین تھا کہ انہوں نے کیوں خود اُٹھا کر نہیں کھائی۔ہم میں سے ہر ایک اپنے آپ کو مظلوم سمجھتا تھا۔ہم دونوں دل شکستہ تھے۔آہ! محبت بھی عجیب ہے ہے۔وہ ایک کے دل میں کچھ خیال پیدا کرتی ہے اور دوسرے کے دل میں کچھ۔وہ دو دھاری تلوار ہے جو د وطرف وار کرتی ہے۔مگر وہ دن گئے اب تو ان پر حقیقت گھل چکی ہوگی۔اب امتحانوں کا زمانہ گیا نتیجے نکل چکے۔اب وہاں انہیں معلوم ہو چکا ہو گا کہ مجھے اُن سے کس قدر محبت تھی۔غم تو میرے دل کیلئے ہے جس پر اس رنگ میں حقیقت اب تک نہیں کھلی۔امتہ الحی مرحومہ اس میں ان سے مختلف تھیں وہ ایسے موقع پر ناز سے لیکن ادب کے ساتھ اپنا حق لئے بغیر نہ رہتیں۔