انوارالعلوم (جلد 13) — Page 75
انوار العلوم جلد ۱۳ ۷۵ میری ساره انہوں نے رپورٹ کی کہ صحت اچھی ہے کچھ فکر کی بات نہیں۔ان کی اس رپورٹ پر میں نے جو خط مولوی صاحب کو لکھا۔اس کا ایک حصہ حسب ذیل ہے:۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب آج واپس تشریف لے آئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے سارہ سلمہا اللہ تعالیٰ کی صحت ایسی نہیں جس سے کچھ خدشہ ہو۔چونکہ فیصلہ کی بنا ءطبی مشورہ پر رکھی گئی تھی اور طبی مشورہ موافق ہے اس لئے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر مندرجہ ذیل امور میں آپ کی رائے اثبات میں ہو اور سارہ سلمہا اللہ تعالیٰ بھی ایسی ہی رائے رکھتی ہوں تو ان کا نکاح مجھ سے کر دیا جائے“۔اس خط کی نقل میں نے رکھی ہوئی تھی۔اتفاقاً آج سارہ بیگم مرحومہ کا پہلا خط تلاش کرنے لگا تو ساتھ ہی اس خط کی نقل بھی مل گئی۔غرض یہ خط میں نے لکھا اور مولوی صاحب موصوف نے جو کچھ میں نے لکھا تھا اسے بخوشی قبول کیا اور ہمارا نکاح ہو گیا۔سارہ جو بھاگلپور کے ایک نہایت معزز اور علمی خاندان میں پیدا ہوئی تھیں، ۱۹۲۵ ء میں اس سال کی مجلس شوری کے موقع پر میرے نکاح میں آ گئیں، ان کا خطبہ نکاح خود میں نے پڑھا اور اس طرح ایک مُردہ سنت پھر قائم ہوئی۔اللہ تعالیٰ کی لاکھوں برکتیں ہوں مولوی عبدالماجد صاحب پر جنہوں نے ہر طرح کی تکالیف کو دیکھتے ہوئے ایک بے نظیر اخلاص کا ثبوت دیا اور میرے ارادوں کو پورا کرنے کیلئے مجھے ایک ہتھیار مہیا کر دیا۔مرحومہ امتہ الحی کی وفات سارہ بیگم کے نام پہلا خط اور اس کا جواب سے جو ایک قومی نقصان مجھے نظر آتا تھا اس کی ذہنی اذیت نے مجھے اس بات کیلئے بیتاب کر دیا کہ سارہ بیگم کے قادیان آنے سے پہلے ہی انہیں انکی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاؤں چنانچہ میں نے انہیں ایک خط لکھا جس میں پالا جمال آنے والی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی اور امید ظاہر کی کہ وہ میرے لئے مشکلات کا نہیں بلکہ راحت کا موجب بنیں گی۔خط کے جواب میں کچھ دیر ہوگئی تو میں نے ایک اور خط لکھا اس کا جو جواب آیا وہ میں نے محفوظ رکھا ہوا تھا۔آج کہ مرحومہ اس دنیا سے اُٹھ گئی ہیں، آج کہ ہمارے تعلقات سفلی زندگی کے اثرات سے پاک ہو کر بالکل اور نوعیت کے ہو گئے ہیں، آج کہ نہ ان کیلئے اس خط کے ظاہر ہونے میں کوئی شرم ہے نہ میرے لئے ، میں اس خط کو مرنے