انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 74

انوار العلوم جلد ۱۳ ۷۴ میری ساره نہایت درجہ تک جاذب قلب تھا۔اللہ کے اس قدر فضل ہوں اس کے والد پر اور اس مرحومہ پر، ہاں اس قدر کہ وہ دونوں حیران ہو کر اپنے رب سے پوچھیں کہ آج کیا ہے کہ تیری رحمت کا دروازہ اس رنگ میں ہم پر کھل رہا ہے اور ان کا رب اُنہیں بتائے کہ میرے بندے محمود نے اپنا ٹو ٹا ہوا دل اور اشک بار آنکھیں میرے قدموں پر رکھ کر مجھ سے درخواست کی ہے کہ میں تم پر خاص درود بھیجوں اور یہ اسی درود کی ضیا باریاں ہیں جو تم پر نازل ہو رہی ہیں۔مرحومہ فوت ہو گئیں اور میرے دل کا ایک کو نہ خالی ہو گیا۔میری وہ سکیم جو مستورات کی تعلیم کے متعلق تھی ، یوں معلوم ہوا کہ ہمیشہ کیلئے تہ کر کے رکھ دی گئی۔مگر نہیں۔اللہ تعالیٰ مجھے کچھ اور سبق دینا چاہتا تھا۔غالباً ۱۹۲۴ ء کا شروع تھا یا ساره بیگم مرحومہ کے متعلق تحریک نکاح ۱۹۲۳ء تھا جب برادرم پروفیسر عبدالقادر صاحب ایم۔اے قادیان تشریف لائے ہوئے تھے۔وہ کچھ بیمار ہوئے اور اُن کیلئے ہومیو پیتھک دوا لینے کیلئے اُن کی چھوٹی ہمشیرہ میرے پاس آئیں انہوں نے اپنے بھائی کی بیماری کے اسباب کے متعلق کچھ اس فلسفیانہ رنگ میں مجھ سے گفتگو کی کہ میرے دل پر اس کا ایک گہرا نقش پڑا۔جب وہ دوا لے کر چلی گئیں میں اوپر دوسرے گھر کی طرف گیا جس میں میری مرحومہ بیوی رہا کرتی تھیں۔وہاں کچھ مذہبی تذکرہ ہوا اور ایک بُرقعہ میں سے ایک سنجیدہ آواز نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی ڈائری کا حوالہ دیا کہ آپ اس موقع پر اس اس طرح فرماتے ہیں۔یہ آواز پروفیسر صاحب کی ہمشیرہ ہی کی تھی اور حوالہ الیسا بر جستہ تھا کہ میں دنگ رہ گیا۔میری حیرت کو دیکھ کر امتہ الحی مرحومہ نے کہا انہیں حضرت صاحب کی ڈائریوں اور کتب کے حوالے بہت یاد ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فارسی شعر بھی۔یہ کہتی ہیں کہ میں نے الحکم اور بدر میں سے اکثر ڈائریاں پڑھی ہیں اور مجھے یاد ہیں۔میرے دل نے کہا یہ بچی ایک دن خدا تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ کیلئے مفید وجود بنے گی۔میں وہاں سے چلا گیا اور وہ بات بھول گئی۔جب امہ الحی مرحومہ کی وفات کے بعد مجھے سلسلہ کی مستورات کی تعلیم کی نسبت فکر پیدا ہوئی تو مجھے اس بچی کا خیال آیا۔اتفاق سے اس کے والد مولانا عبد الماجد صاحب بھاگلپوری جلسہ پر تشریف لائے ہوئے تھے میں نے ان سے اس کا ذکر کیا اور انہوں نے مہربانی فرما کر میری درخواست کو قبول کیا۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کو میں نے لڑکی کی صحت کے متعلق رپورٹ کرنے کو بھیجا اور