انوارالعلوم (جلد 13) — Page 439
439 انوار العلوم جلد ۱۳ مرزا صاحب نے بھی کسی کو حرامی نہیں کہا۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مقدمہ میں حضور کا بیان ذریۃ البغایا کے معنی ہیں۔بے وفا لوگوں کے طریق پر چلنے والے۔یا بے وفا عورتوں کے طریق پر چلنے والے لوگ۔بے وفا عورتیں یا جماعتیں بھی اس کے معنی ہیں۔بغایا کے معنی بد کار عورت کے بھی ہیں۔بغایا جمع ہے ممکن ہے مفرد معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہو مگر لغت دیکھے بغیر اس کے متعلق یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا۔میرے عقیدہ کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت مرزا صاحب کے آنے تک کوئی نبی نہیں آیا۔یہ سچ ہے کہ اس عرصہ میں بعض نے نبوت کا دعوی کیا مگر میرے عقیدہ کی رُو سے ان کا دعویٰ غلط ہے اور ایسا دعویٰ کرنے والے غلطی پر تھے۔قادیان میں جو احمدی پٹھان رہتے ہیں، میرے نزدیک وہ شریف آدمی ہیں۔ان سے مجھے حملہ کرنے کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔میں بغیر حوالہ دیکھے نہیں کہہ سکتا کہ مولوی محمد علی صاحب نے جو لا ہوری فریق کے امیر ہیں، کوئی شکایت کی کہ پٹھان مجھے مارنہ دیں۔میں اپنی جماعت کے جس آدمی پر اس کی کسی غلطی کی وجہ سے ناراض ہوں، اس کا گھر بار ضبط نہیں کیا کرتا۔بعض ایسے لوگ جن کے اخلاقی جرم اور نا پسند یدہ حرکات کا بچوں پر بُرا اثر پڑتا ہو اور وہ جماعت سے تعلق رکھتے ہوں ان سے میں خواہش کرتا ہوں کہ قادیان سے چلے جائیں۔ان میں سے بعض جو نہیں مانتے وہ نہیں بھی جاتے۔میں خان کا بلی کو جانتا ہوں، اس کے متعلق اپنی جماعت کے کارکنوں میں سے کسی نے جب مجھ سے دریافت کیا کہ وہ ناپسندیدہ حرکات کرتا ہے، کیا کیا جائے تو میں نے خواہش کی کہ وہ قادیان سے باہر چلا جائے۔عدالت: وہ قادیان سے چلا گیا تھا۔جواب: ہاں۔میں نے اس کے رشتہ داروں سے کہا تھا کہ جب تک وہ اصلاح نہ کرے قادیان نہ آئے۔اس موقع پر ایک تحریر پیش کی گئی جس کے متعلق فرمایا کہ یہ خط میرا ہی معلوم ہوتا ہے۔گو اس کی سیاہی وہ نہیں جو میں عام طور پر استعمال کیا کرتا ہوں۔اس میں وہ مضمون ہے جو میں نے ایک چٹھی میں لکھا تھا۔