انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 381

381 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات متحدہ طور پر جماعت احمدیہ کے خلاف کھڑی ہو گئی ہیں اور احمدی ہونے کی وجہ سے مخالفت کر رہی ہیں۔جہاں جہاں احمدی ہیں، وہاں وہاں منظم مخالفت کی جارہی ہے۔گویا پہلے اعضاء پر حملہ ہوتا تھا مگر اب سر پر حملہ کیا جا رہا ہے۔پہلے اردگرد حملہ کیا جاتا تھا مگر اب مرکز پر حملہ کیا جا رہا ہے اور اس طرز کا حملہ کیا جا رہا ہے جو نہایت ہی اشتعال انگیز اور امن شکن ہے۔ایک طریق اس حملہ کا یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پر نہایت گندے اور نہایت ناپاک حملے کئے جاتے ہیں۔ایسے گندے کہ اگر سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تعلیم پیش نظر نہ ہوتی ، اگر احمدیت ہاتھ نہ روکتی تو با وجود اس حکومت کی فوجوں اور پولیس کے ہزار ہا خون ہو جاتے۔میں ان لوگوں میں سے ہوں جو نہایت ٹھنڈے دل کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا کرتے ہیں۔میں نے اپنے کانوں سے مخالفین کی گالیاں سنیں اور اپنے سامنے بٹھا کرسنیں مگر باوجود اس کے تہذیب اور متانت کے ساتھ ایسے لوگوں سے باتیں کرتا رہا۔میں نے پتھر بھی کھائے اُس وقت بھی جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر امرتسر میں پتھر پھینکے گئے اُس وقت میں بچہ تھا مگر اُس وقت بھی خدا تعالیٰ نے مجھے حصہ دے دیا۔لوگ بڑی کثرت سے اُس گاڑی پر پتھر مار رہے تھے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھے تھے۔میری اُس وقت چودہ پندرہ سال کی عمر ہوگی۔گاڑی کی ایک کھڑکی گھلی تھی میں نے وہ کھڑی بند کرنے کی کوشش کی لیکن لوگ اس زور سے پتھر مار رہے تھے کہ کھڑ کی میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور پتھر میرے ہاتھ پر لگے۔پھر جب سیالکوٹ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر پتھر پھینکے گئے، اُس وقت بھی مجھے لگے۔پھر جب تھوڑا عرصہ ہوا میں سیالکوٹ گیا تو باوجود اس کے کہ جماعت کے لوگوں نے میرے ارد گر د حلقہ بنالیا تھا، مجھے چار پتھر لگے۔غرض میں نے مخالفین سے پتھر کھائے ہیں، گالیاں سنی ہیں اور اشتعال انگیزیاں دیکھی ہیں لیکن اُف نہیں کی اس لئے نہیں کہ غیرت نہیں آتی ، جوش نہیں آتا، غصہ نہیں آتا بلکہ محض اس لئے کہ اس شخص کا ہمیں حکم ہے جسے مخالفین گالیاں دیتے ہیں، جن پر اتہام لگاتے ہیں، جس کی تذلیل کرتے ہیں کہ ہاتھ نہیں اُٹھانا۔ورنہ اگر اُس کا حکم نہ ہوتا تو نہ ہم بیوی بچوں کی پرواہ کرتے نہ اپنی جانوں کی پرواہ کرتے نہ کسی طاقت کی پرواہ کرتے وہ شیطان کے چیلے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دیتے ہیں، آپ پر ناپاک اور گندے الزامات لگاتے ہیں، آپ کی تحقیر اور تذلیل کرتے ہیں، ان کی جانیں محض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہی طفیل بچی ہوئی ہیں ورنہ