انوارالعلوم (جلد 13) — Page 337
337 انوار العلوم جلد ۱۳ سردار کھڑک سنگھ اور ان کے ہمراہیوں کو دعوت حق خدا تعالیٰ نے اس وقت اپنا نور قادیان میں اُتارا ہے۔پس خدا کا خوف کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی آواز کوسنیں اور ٹھنڈے دل اور نیک ارادوں سے اِس بات کو سنیں جسے ایک شخص نے خدا تعالیٰ کی طرف سے پا کر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔یہ دنیا چند روزہ ہے نہ پہلے کوئی رہا نہ اب رہے گا نہ آپ رہیں گے نہ میں رہوں گا، نہ آپ کے سامعین رہیں گے، ہم سب کوئی آگے کوئی پیچھے خدا تعالیٰ کے سامنے جانے والے ہیں پس عاقبت کی فکر کیجئے اور ایسے الفاظ منہ سے نہ نکالیے جو خدا تعالیٰ کی شان میں گستاخی کا موجب ہیں۔یا د رکھیں کہ جس قدر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے زیادہ قریب ہوتا ہے، اُسی قدر زیادہ منکسر المزاج ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کے پیارے کبھی ایسے دعوے نہیں کیا کرتے اگر باور نہ ہو تو حضرت باوا نا نک صاحب کا کلام پڑھیں کبھی انہوں نے بھی ایسا کہا کہ میں فلاں شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا ؟ ہاں جب کہا یہی کہا کہ خدا تعالیٰ میں سب طاقتیں ہیں، وہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے اور یہی بات اللہ تعالیٰ کے سب پیارے کہتے چلے آئے ہیں اور یہی بات میں بھی کہتا ہوں کہ عزت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔نہ آپ قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا سکتے ہیں اور نہ میں قادیان کی کوئی اینٹ بچا سکتا ہوں ہوگا وہی جو خدا چاہے گا اور خدا تعالیٰ نے یہی چاہا ہے کہ وہ قادیان کو عزت دے اور اسے بڑھائے یہاں تک کہ اس کی آبادی بیٹ سے تک پہنچ جائے، اب اس ارادہ کے پورا ہونے میں نہ آپ روک ڈال سکتے ہیں اور نہ کوئی اور۔اگر شک ہو تو یہاں کے سکھوں سے دریافت کر لیجئے کہ یہ خدا کی خبر بانی سلسلہ احمدیہ نے کس وقت اور کن حالات میں شائع کی تھی اور پھر کن حالات میں وہ پوری ہوئی پس میں تو آپ کے اس اشتعال دلانے والے جملہ کے جواب میں کچھ نہیں کہتا صرف یہی کہتا ہوں کہ اللہ آپ کے بڑھاپے پر رحم کر کے اس متکبرانہ فقرہ کی سزا سے بچالے اور سچی توبہ کی توفیق دے اور سچ کو قبول کرنے کی ہمت بخشے۔وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ ( ۲۷ مئی ۱۹۳۴ء ) ۲۷ مئی کو سکھوں نے بسراء نزد قادیان کے مقام پر جلسہ کیا جس میں سردار کھڑک سنگھ نے اشتعال انگیز تقریر کی۔اس کے جواب میں ۲۷ مئی ہی کی رات کو حضور نے یہ مضمون رقم فرمایا جو راتوں رات چھپ کر ۲۸ مئی کو تقسیم ہو گیا۔( الفضل ۳۱ مئی ۱۹۳۴ء) قادیان کے قریب ایک گاؤں۔