انوارالعلوم (جلد 13) — Page 320
320 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق ان کا نام نہیں لیتا لیکن یہ بتا دیتا ہوں کہ مولوی شبلی نہ تھے۔شبلی صاحب تعلیم یافتہ اور روشن خیال آدمی تھے اور قوم کا درد رکھتے تھے۔ان مولوی صاحب نے جو کچھ اپنی تقریر میں کہا، میں اسے بیان نہیں کر سکتا۔نماز کی بڑی خوبی انہوں نے یہ بیان کی کہ نماز پڑھنے سے جنت ملے گی اور جنت کا جو نقشہ انہوں نے کھینچا اسے میں بیان نہیں کر سکتا کیونکہ یہاں عورتیں بھی ہیں۔اس جلسہ میں ایک بیرسٹر صاحب بیٹھے تھے وہ کہنے لگے خدا بھلا کرے مولا ناشبلی کا کہ یہ لیکچر رات کو رکھا اگر دن کو رکھتے تو اس وقت چونکہ غیر مسلم بھی ہوتے ہم تو ندامت سے ان کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتے اور ہمیں یہاں سے اٹھنا محال ہو جاتا۔دنیا کی جتنی عیاشیاں ہیں، مسلمانوں کا عقیدہ تھا کہ وہ ساری کی ساری اپنی بھیا تک صورت میں جنت میں ہوں گی۔حضرت مرزا صاحب نے آ کر بتایا کہ جنت کی نعمتیں تمثیلی طور پر ہیں۔رویا میں اگر کوئی شخص دیکھے کہ اسے آم دیا گیا ہے تو اس سے مطلب دنیا کا آم نہیں ہوتا بلکہ اس کی تعبیر اور ہوگی۔رؤیا میں بھی ایک زندگی ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نیند کے وقت اللہ تعالیٰ بندہ کی روح قبض کرتا ہے۔۵۴ نیند اور موت میں گو فرق ہے، موت مستقل چیز ہے اور یہ عارضی مگر پھر بھی کون کہہ سکتا ہے کہ رویا کی دنیا اصلی نہیں۔اس قسم کی متعدد مثالیں ملتی ہیں کہ رویا میں ایک شخص کو کوئی حادثہ پیش آیا اور جب وہ بیدار ہوا تو اس کے بال سفید ہو چکے تھے، رویا میں پھل کھایا اور اُٹھنے پر اس کا ذائقہ موجود تھا، رویا میں پانی میں سے گذرے اور اُٹھنے پر پاؤں پر نم تھے۔تو رویا بھی بڑے نشانات کا موجب ہوتا ہے لیکن جس طرح رویا میں اگر کوئی آم دیکھے تو اس سے مراد یہ آم نہیں، بلکہ دوسری چیز ہوتی ہے اسی طرح جنت کی نعماء سے یہ مراد نہیں کہ یہی ہوں گی بلکہ یہ مطلب ہے کہ اعمال متشکل ہوں گے۔یہاں انسان جو نمازیں پڑھتا روزے رکھتا اور دوسری نیکیاں کرتا ہے وہی روحانی آم یا دوسری نعمتوں کی صورت میں اس کے سامنے آئیں گے اور وہ کہے گا کہ هذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ ۵۵ وگرنہ یہ آم تو انسان یہاں بھی کھاتا ہے، وہاں اس کے لئے ان میں کیا زیادہ مزا ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا کہ قرآن سے یہی پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رؤیت اور وصلِ جنت ہے نہ کہ حور و غلمان۔پھر دوزخ کے متعلق بھی ایک نہایت مکر وہ خیال لوگوں کے دلوں میں تھا اور وہ یہ کہ سوائے چند آدمیوں کے باقی سب ابد الآباد تک دوزخ میں رہیں گے۔آپ نے فرمایا کہ دیکھوڈ نیوی گورنمنٹیں بھی کسی کو ہمیشہ کیلئے قید نہیں کر لیتیں۔جن کو عمر قید کی سزادی جاتی ہے وہ بھی ۱۹ ، ۲۰ سال کے بعد رہا کر