انوارالعلوم (جلد 13) — Page 207
انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۰۷ اہم اور ضروری امور اور گورمکھی کے ترجمے فخر الدین صاحب نے چھپوائے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ ترجمے اپنا اثر پیدا کر رہے ہیں۔آج ہی سکھوں کی ایک گڈی کے مالک نے گورمکھی ترجمہ کے متعلق لکھا ہے کہ مجھے ایک دوست نے وہ کتاب پڑھنے کو دی تھی جس کا میں مطالعہ کر رہا ہوں۔پہلے میرے دل میں اسلام کے متعلق بہت شکوک تھے جو اب دور ہو گئے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اگر ان کتابوں کو مناسب طور پر ہندوؤں اور سکھوں میں تقسیم کریں تو بہت اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے۔بعض لوگ جو اپنے مال کی قدر نہیں کرتے، کسی کتاب کے دس ہیں نسخے خرید لیں گے اور پھر جو سامنے آ جائے اُسے دے یں گے۔یہ نہیں دیکھیں گے کہ اس میں اس کتاب سے فائدہ اُٹھانے کی قابلیت بھی ہے یا نہیں اور وہ فائدہ اُٹھانے کی خواہش بھی رکھتا ہے یا نہیں۔ایسی کتابیں اُن لوگوں کو دینی چاہئیں جو ان کے مستحق ہوں اور ان سے فائدہ اُٹھا ئیں۔اس طرح اگر اسلامی اصول کی فلاسفی“ کا ہندی اور گور مکھی ترجمہ تقسیم کیا جائے تو میں سمجھتا ہوں جو تبلیغ ان قوموں کو پہنچنی چاہئے تھی مگر ابھی تک نہیں پہنچی وہ ایک حد تک پہنچ جائے اور خدا کے فضل سے ٹھوس نتیجہ بھی ان لوگوں کے مسلمان ہونے کی صورت میں نکل آئے۔کتاب گھر کی ایک کتاب "حربہ تکفیر اور علمائے زمانہ ہے۔مجھے اس کو دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔اگر علماء کے نام اور ان کے افعال سے متأثر ہو کر اس میں سخت کلامی نہیں کی گئی تو وہ بھی خریدنی چاہئے اور دوسروں میں تقسیم کرنی چاہئے۔یہ ہمارا طریق نہیں کہ سخت کلامی اور درشت بیانی سے کام لیں بلکہ چاہئے کہ جو بات بھی پیش کریں، متانت اور سنجیدگی سے پیش کریں۔خواہ مخالف گالیاں ہی دیتا ہو اور بد زبانی کرتا ہو، ہم اس کی وجہ سے اپنی زبان کو کیوں گندہ کر یں۔پھر انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر قرآن جمع کی ہے۔میں نے وہ پڑھی نہیں تا معلوم ہو کہ کس قدر عقل اور سمجھ سے کام لے کر یہ کام کیا گیا ہے مگر اس کی اتنی جلد میں جو شائع ہوئی ہیں، تو انہوں نے اس کے لئے محنت کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر قرآن کریم کے حقائق و معارف کے متعلق اشارات ہوتے ہیں اور ان پر غور کرنے والے بہت فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔آپ کی بیان فرمودہ تفسیر میں اتنے معارف ہوتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک ایک سطر سے کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ایک کتاب انہوں نے میر محمد اسحق صاحب کی انسان کامل شائع کی ہے جس میں ثابت کیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسانِ کامل تھے۔کچھ اور ٹریکٹ بھی ہیں جیسے محسن اعظم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم۔66