انوارالعلوم (جلد 13) — Page 201
انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۰۱ مستورات سے خطاب پس ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہمیں کن علوم کی ضرورت ہے؟ ہمیں عالم دین کی ضرورت ہے۔کوئی لڑکی اگر ایم۔اے پاس کر لے اور اُس کو تربیت اولاد یا خانہ داری نہ آئے تو وہ عالم نہیں جاہل ہے۔ماں کا پہلا فرض بچوں کی تربیت ہے اور پھر خانہ داری ہے۔جو حدیث پڑھے ، قرآن کریم پڑھے وہ ایک دیندار اور مسلمان خاتون ہے۔اگر کوئی عورت عام کتابوں کے پڑھنے میں ترقی حاصل کرے تا کہ وہ مدرس بن سکے یا ڈاکٹری کی تعلیم سیکھے تو یہ مفید ہے کیونکہ اس کی ہمیں ضرورت ہے لیکن باقی سب علم لغو ہیں۔میں کہتا ہوں بی۔اے ایم۔اے ہو کر کرو گی کیا ؟ میں اپنی جماعت کی عورتوں کو کہتا ہوں کہ دین سیکھو اور روحانی علم حاصل کر و۔حضرت رابعہ بصری یا عائشہ صدیقہ کے پاس ڈگریاں نہیں تھیں دیکھو حضرت عائشہ نے علم دین سیکھا اور وہ نصف دین کی مالک ہیں۔مسئلہ نبوت میں جب ہمیں ایک حدیث کی ضرورت ہوئی تو ہم کہتے ہیں کہ جاؤ عائشہ سے سیکھو۔شیر محمد ایک یکہ بان ان پڑھ جاہل تھا مگر تبلیغ کرنے کا اُسے سلیقہ آتا تھا۔جب یکہ چلانے بیٹھتا تو ایک کتاب حضرت صاحب کی ہاتھ میں لے لیتا اور کسی پاس بیٹھے ہوئے کو کہتا کہ مجھے سناؤ۔اس طرح سے وہ تبلیغ کرتا تھا۔غرض جاہل، ان پڑھ اگر مطلب کی مفید باتیں جانتا ہے تو وہ عالم ہے جاہل نہیں ہے۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ خدمت دین میں ترقی علم کا راز ہے۔امیرانسان ، تکبر سے نہیں ہوتا نہ روپے سے بلکہ سچے علم سے۔اب میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تم سب کو سچا علم حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور تم حقیقی علم حاصل کرو۔مصباح ۱۵ جنوری ۱۹۳۴ ء )