انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 183

۱۸۳ انوار العلوم جلد ۱۳ أسوة كامل محتاج ہے تو خواہ وہ کسی قوم کا ہو اس پر رحم کرنا چاہیئے اور دھوکا وفریب اگر بُرا ہے تو سب کے ساتھ۔یہ نہیں کہ غیروں کے ساتھ اسے جائز سمجھا جائے۔حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ میں نے ایک شخص کو اٹھتی دی کہ چار آنے کی فلاں چیز لے آؤ۔وہ تھوڑی دیر کے بعد چیز لے آیا اور اٹھتی بھی ساتھ ہی آپ کو واپس کر دی اور کہنے لگا آج کا فر کو خوب دھوکا دیا۔میں نے اسے چار آنے نقد اور چار آنے کی چیز لے لی اور پھر اس سے کہا کہ فلاں چیز تمہارے پاس ہے تو دکھاؤ۔یہ کوئی ایسی چیز تھی جو عام طور پر ڈ کا ندار اندر رکھتے ہیں وہ اندر سے لانے کے لئے گیا مگر اٹھتی صندوقچی کے اندر رکھنا بھول گیا اور میں نے اٹھا کر جیب میں ڈال لی۔تو بعض مسلمان اسے جائز سمجھتے ہیں مگر یہ اسلام کی تعلیم ہر گز نہیں۔اسلامی تعلیم تو یہی ہے کہ سب کے ساتھ عدل وانصاف کرو۔دنیوی معاملات میں یہ امتیاز نہ ہونا چاہیئے۔امتیاز رنگ ونسل کی ممانعت اس کے علاوہ آپ کے نسلی اقیاز کو مٹایا۔عیسائیوں کے گرجوں میں امرا ء و غرباء کی کرسیاں علیحدہ علیحدہ ہوتی ہیں، ہندوؤں میں کوئی اچھوت ہے اور کوئی برہمن، یہودیوں میں کوئی بنی ہارون اور کوئی بنو لا وی مگر آپ نے فرمایا کہ نسلی امتیاز کوئی ٹھے نہیں۔تم میں سے جو نیکی کرے وہ بڑا اور جو شریر ہو جھوٹ بولے اور بُرے اعمال کرے وہ خواہ کسی قسم سے ہو وہ بُرا ہے۔ہے مضمون تو یہ سارے مذاہب کی جزئیات پر حاوی ہے مگر اس جگہ صرف اشارات ہی کئے جاسکتے ہیں کیونکہ مغرب کا وقت ہو چکا ہے۔پھر رحمانیت آتی ہے اس کے معنے یہ ہیں کہ جو چیز اس نے پیدا کی ہے اس الہام الہی کے استعمال کے سامان اور ذرائع بھی مہیا کر دیئے۔اس کے ماتحت ہم دیکھتے ہیں کہ کیا غیر مستحق کے کام کو چلانے کے لئے بھی آپ نے کوئی سامان کیا ہے یا کام کرنے سے پہلے اس کے چلانے کے لئے آپ نے کوئی انتظام کیا ہے۔اس ضمن میں پہلی بات یہ یاد رکھنی چاہیئے کہ گسب کے بغیر جو چیز ملاتی ہے وہ الہام ہے۔آپ کے زمانہ میں الہام کا دروازہ بند تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ وحی کا دروازہ اب بند ہے اور الہام پہلوں پر ختم ہو چکا آئندہ نسلوں کے لئے اسے پانے کی کوئی اُمید نہ تھی۔آپ نے انسانوں کے احساسات کا خیال کیا اور بتایا کہ الہام کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔اگر کسی انسان کے اندر کسی چیز کے پانے کی اہلیت اور فطرت ہو مگر اسے خیال ہی نہ ہو کہ یہ چیز مجھے مل سکتی ہے، تو وہ اس کے لئے کیا کوشش کرے گا۔کسی کے گھر میں