انوارالعلوم (جلد 13) — Page 182
۱۸۲ انوار العلوم جلد ۳ أسوة كامل پھر انسان مر جاتا ہے۔اس وقت کا بھی آپ نے خیال موت کے بعد ر بو بید رکھا اور بتایا کہ کس طرح مُردہ کی تجہیز و تکفین کی جائے۔آپ ہر قوم کے مُردوں کا احترام کرتے تھے۔ایک وفعہ ایک میت جا رہی تھی کہ آپ اس کے احترام کے طور پر اُٹھ کر کھڑے ہو گئے۔کسی نے عرض کیا یا رَسُول اللہ ! یہ تو یہودی تھا۔آپ نے فرمایا یہودی بھی تو خدا کا بندہ ہی ہے۔پھر فرما یا مر دوں کا ذکر اچھی طرح کیا کرو گے۔اور کہا جا سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ اللہ نے ہر مرنے والے کی بھی خبر گیری کی اور اس طرح اس کی بھی ربوبیت کر دی اور انسان کی پیدائش سے لے کر اس کی موت تک سب ضروری احکام دے دیئے اور پھر اگر تمام افراد کو علیحدہ علیحدہ لیا جائے تو اس میں بھی آپ کی ربوبیت نظر آئے گی۔۔کا سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ سب کی اُخروی زندگی کے لئے روحانی ربوبیت سہارا ہیں۔آپ نے ہرقوم کے افراد کودعوت الہی میں شامل ہونے کیلئے بلایا ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ سب نبی اپنی اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے مگر میں سب اقوام کی طرف بھیجا گیا ہوں۔یہ نہیں کہ اسلام کسی سے کہے کہ تم ہندو ہو تمہیں عرب کی تعلیم سے کیا واسطہ بلکہ آپ وہ نور لائے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔لَا شَرْقِيَّةٍ وَّلَا غَرْبِيَّةٍ وجس کا مشرق و مغرب سے کوئی تعلق نہیں۔اس رنگ میں بھی آپ نے مظہرِ رَبُّ الْعَلَمِينَ ہونے کا ثبوت دیا۔حضرت مسیح علیہ السلام کے پاس ایک عورت آئی کہ مجھے اپنی تعلیم سکھائیے مگر آپ کی تعلیم چونکہ محدود طبقہ کیلئے تھی اور وہ عورت اس حلقہ سے باہر تھی اس لئے آپ نے اسے جواب دیا کہ میں اپنے موتی سؤروں کے آگے نہیں ڈال سکتا۔اور بچوں کی روٹی چھین کر گتوں کو نہیں دے سکتا اسے اور اس طرح اُسے بتا دیا کہ میری تعلیم محدود ہے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیم کو سب مخلوقات کے لئے عام کر دیا اور اس طرح آپ رَبُّ الْعَلَمِینَ کے مظہر اتم ٹھہرے۔غرضیکہ جسمانی اور روحانی دونوں حالتوں میں بھی آپ کی ربوبیت کو عام ربوبیت عام پاؤ گے۔یہودیوں میں سو د منع ہے مگر باہم غیروں سے وہ لے لیتے ہیں۔" آپ نے سُود کو منع فرمایا مگر سب کے لئے۔آپ نے حکم دیا کہ اگر کسی مسکین کو حاجت ہے تو اسے سود پر روپیہ دینا ظلم ہے " گویا جسمانی طریق پر بھی آپ نے امتیاز نہیں رکھا۔گوافسوس ہے کہ مسلمانوں میں بعض لوگ ایسے پیدا ہو گئے جو غیروں سے دھوکا جائز سمجھتے ہیں۔بعض مولویوں نے فتوی دے رکھا ہے کہ کافر سے سود لینا جائز ہے حالانکہ جب کوئی شخص رحم کا