انوارالعلوم (جلد 13) — Page 155
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۵۵ رحمة للعالمين نے سب ہدایت ہمارے بزرگوں کی معرفت دنیا کو دے دی ہے۔اس کے بعد اسے کسی اور الہام کے بھیجنے اور معرفت کا رستہ بتانے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ تب میں بدھ مت والوں کی طرف متوجہ ہوا اور ان سے اس مذہب کے بانی کے حالات پوچھے۔انہوں نے بدھ جی کے حالات جو سنائے وہ ایسے دلکش اور مؤثر تھے کہ میرا دل بھر آیا اور ان کی محبت میرے دل میں گڑ گئی اور میں نے کہا کہ آپ کے مذہب کے بانی واقع میں بڑے آدمی تھے۔انہوں نے خود دکھ برداشت کئے اور دوسروں کو سکھ دیئے خود تکالیف برداشت کیں اور دوسروں کو آرام پہنچایا اپنی زندگی کی ہر گھڑی کو بنی نوع انسان کی خیر خواہی میں صرف کیا ان کے حالات بالکل کرشن جی اور رامچند رجی کی طرح کے ہیں اور وہ بھی انہی کی طرح آسمان روحانیت کے چمکتے ہوئے ستارے ہیں، پھر نہ معلوم ہند ولوگ ان کو کیوں اچھا نہیں سمجھتے اور ان کے حسن کی قدر نہیں کرتے۔انہوں نے جواب دیا کہ آپ کو غلطی لگی ہے۔ہمارے گوتم بدھ اور رامچندر جی اور کرشن جی میں کوئی مناسبت نہیں آپ جو کچھ کرشن جی اور رامچندر جی کی نسبت سنتے ہیں، وہ تو قصے اور کہانیاں ہیں۔ہندوؤں کے بزرگ ہمارے مذہب کے بانی کی حقیقت تک کہاں پہنچ سکتے تھے۔میں نے ہر چند اصرار کیا کہ دونوں قوموں کے بزرگوں کے حالات آپس میں مشابہ ہیں اور ان کے مخالفوں کے بھی لیکن بدھ مت کے لوگ نہ مانے اور نہ مانے۔اور میں زرشتیوں کی طرف متوجہ ہوا اور ان سے پوچھا کہ کیا ان میں بھی کوئی بزرگ گزرا ہے؟ زرشتیوں نے اپنے بزرگ زرتشت کے احوال سنائے جن کوسن کر میرے دل کی کلی کھل گئی اور میرا سینہ خوشی سے بھر گیا کیونکہ اس مرد نیک سیرت کی زندگی ایک اعلیٰ درجہ کا سبق تھی، بدی کے خلاف اس کی جد و جہد نیکی کے قیام کیلئے اس کی مساعی بندوں کو خدا تعالیٰ کی طرف پھیر لانے کیلئے اس کی تگ و دو کچھ ایسی شاندار تھی کہ منجمد خون میں بھی حرارت پیدا ہوتی تھی، ساکن دل بھی حرکت کرنے لگتا تھا۔میں نے ان کے احوال معلوم کئے اور بہت ہی فائدہ حاصل کیا۔میں نے کہا وہ بالکل کرشن رامچند ربدھ کا نمونہ تھے اور واقع میں اس قابل کہ ان کے نمونہ سے فائدہ اُٹھایا جائے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کی جائے لیکن میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب ان کے ماننے والوں نے اس بات کو بہت ہی بُرا مانا اور اس قول میں اپنے بزرگ سردار کی ہتک محسوس کی اور کہا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ ہندوؤں کا تعلق تو بد ارواح سے ہے۔آپ نے نہیں سنا کہ ان کا تعلق دیوتا سے ہے اور اندر سے اور اگر آپ ہماری کتب پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ بدارواح کے نام ہیں۔پھر آپ نے کس طرح ان لوگوں کے