انوارالعلوم (جلد 13) — Page 154
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۵۴ رحمة للعالمين بھاگتی تھی اس نے پھر انسانیت کا جامہ پہن لیا اور خدا کی بنائی ہوئی خوبصورتی کو ایک نئی نگہ سے دیکھنا شروع کیا۔وہ جو ہر ھے کو اپنا دشمن سمجھتے تھے اور ہر حسن میں شیطان کا ہاتھ پوشیدہ دیکھتے تھے اور دنیا کو دشمنوں سے گھرا ہوا خیال کرتے تھے اور اپنے آپ کو تن تنہا سمجھتے ہوئے بوکھلائے ہوئے پھرتے تھے۔میں نے دیکھا ان کے چہروں سے اطمینان ظاہر ہونے لگا۔بجائے ہر چیز کو زہر خیال کرنے کے تریاق کی خوبیاں بھی انہیں نظر آنے لگیں اور بجائے اپنے آپ کو دشمنوں میں گھرا ہوا محسوس کرنے کے وہ یہ محسوس کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قدم پر ان کے مددگار پیدا کئے ہیں اور ہر پڑاؤ پر ان کی رہنمائی کے لئے علامتیں لگائی ہیں۔تب انہوں نے اپنی جلد بازیوں پر ندامت کا اظہار کیا اور اپنی بیوقوفیوں پر افسوس کا اور خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگے کہ اس نے دنیا کو ہمارے دشمنوں سے نہیں بھرا بلکہ دوستوں سے معمور کیا ہے اور شکر وامتنان کے جذ بہ سے متاثر ہو کر اپنے مربی اور اپنے ہادی کے آگے سجدہ میں گر گئے۔میرے دل سے اس پر پھر ایک آہ نکلی اور میں نے کہا کہ یہ آواز نسلِ انسانی کیلئے بھی رحمت ثابت ہوئی۔جب میں نے محسوس کر لیا کہ انسان فطرۂ نیک ہے اور گذشتہ انبیاء کیلئے رحمت ان میں اعلی ترقیات کے جو ہر چھتی ہیں اور خدا تعالی مخفی کے قرب کی راہیں غیر محدود ہیں تو میں نے کہا کہ آؤ دیکھیں انسان نے کیسے کیسے با کمال وجود پیدا کئے ہیں اور نسل انسانی کے اعلیٰ نمونوں کا مطالعہ کریں اور دیکھیں انہوں نے کن کن کمالات کو حاصل کیا ہے اور کن بلندیوں تک پرواز کی ہے اور میں عالم خیال میں ہندوؤں کی طرف مخاطب ہوا اور ان سے پوچھا کہ آپ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ آپ سب سے قدیم قوم ہیں اور آپ کا مذہب سب سے پرانا ہے۔کیا آپ کے مذہب میں کوئی باکمال لوگ بھی پیدا ہوئے ہیں؟ مجھے سنکر خوشی ہوئی کہ ہند و قوم میں بڑے بڑے باکمال لوگ گزرے ہیں۔میرے سامنے انہوں نے ویدوں کے رشیوں کی تعریف کی منوجی کی خبر دی، بیاس جی سے آشنا کیا، کرشن جی کے حالات سنائے رامچند رجی کے واقعات سے آگاہ کیا اور میرا دل ان کی باتوں کو سن کر اور ان کی دنیا کو نیک بنانے کی جد و جہد کو معلوم کر کے بہت ہی لطف میں آیا۔تب میں نے ان سے سوال کیا آپ کے ہمسایہ میں بدھ مت والے بستے ہیں کچھ ان کے بانی کی نسبت بھی مجھے خبر دیں۔انہوں نے کہا کہ وہ تو ایک دھوکا خوردہ انسان تھے کچھ ایسے خدا رسیدہ آدمی نہ تھے۔میں نے کہا کسی اور قوم کے بزرگ کا حال بتائیں لیکن انہوں نے یہی کہا کہ ہمارا مذ ہب سب سے قدیم ہے اور خدا تعالیٰ