انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 102

انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۰۲ میری ساره سے نہ کہوں تو کس سے کہوں۔اک گنہ گار وجود اور بھی تیرے فضل کا امیدوار ہے، ایک ڈوبی ہوئی جان اور بھی تیرے سہارے کی منتظر ہے، ایک جلا ہوا دل اور بھی تیری رحمت کے چھینٹے کو ترس رہا ہے، ایک پھٹا ہوا سینہ اور بھی تیری رافت کی مرہم کی امید لگائے ہوئے بیٹھا ہے، آ آ جب رحمت کا دریا جوش پر ہے تو اسے بھی آغوش میں لے لے ، رحم کرنے پر آیا ہے تو اب رحم کر ، ادھورا نہ چھوڑ۔تیری سبوحیت میں کیا کمی آئے گی۔اگر اسے سبوحیت کی چادر اڑھادے تیری قدوسیت میں کیا نقص ہو جائے گا ؟ اگر اسے قدوسیت کی عبا میں لپیٹ دے۔آہ! تو جانتا ہے کہ پورے پچیس سال ہوئے ایک دل ٹوٹا تھا ایک گلی مُرجھائی تھی پھر نہ ٹوٹا ہوا دل جُڑا نہ سوکھی ہوئی گلی تازہ ہوئی۔دنیا میں ایک خلا پیدا ہو گیا جو پھر کبھی نہ پر ہوا اور آسمان میں ایک شگاف پیدا ہوا جو پھر کبھی بند نہ ہوا کیا اب بھی تیری رحمت جوش میں نہ آئے گی؟ کیا اب بھی تیرا فضل نازل نہ ہوگا۔وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ البقرة : ۱۵۶ ۱۵۷ در تمین فارسی صفحه ۱۳۶۔شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ الجمعة : ۴ النساء : ۳۵ تلوزیے: تلوار چلانے والے۔جنگجو۔بہادر مرزا محمود احمد خلیات السح ۲۳۔جون ۱۹۳۳ء الفضل ۲۷۔جون ۱۹۳۳ء)