انوارالعلوم (جلد 13) — Page 98
انوار العلوم جلد ۱۳ ۹۸ میری ساره اور کبھی عمل تو کل سے پہلے۔مگر وہ جو محنت نہیں کر سکے ایک راہ کو اختیار کر لیتے ہیں اور خود بھی گمراہ ہوتے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔میں اس بات میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ میں ایک سپاہی ہوں اور میرا یہ طریق نہیں کہ اگر ایک طرف سے دروازہ نہیں کھولا گیا تو خاموش ہو کر بیٹھ جاؤں۔میں سپاہی کی طرح میدانِ جنگ میں جان دینے کو اپنا کام سمجھتا ہوں۔میرا کام یہ ہے کہ اگر ایک دروازہ نہیں گھلا تو دوسرا کھولوں اور وہ نہیں گھلا تو تیسرا دروازہ کھولنے کی کوشش کروں۔غرض اپنے فرض کے پورا کرنے کیلئے مختلف تدابیر اختیار کروں اور کام کرتا چلا جاؤں۔یہاں تک کہ یا شہادت ہو یا فتح کہ مومن کیلئے ان دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی ہو مبارک ہی مبارک ہے۔سیاره بیگم کی والدہ ان کی وفات سے چند ماہ پہلے فوت ہوگئی سارہ بیگم کے رشتہ دار تھیں وہ ایک نہایت مخلص اور نیک خاتون تھیں اگر انہیں ولیہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ایمان میں ان کو صدق حاصل تھا، ایسی بے شر اور نیک عورتیں اس زمانہ میں کم ہی دیکھی جاتی ہیں۔جس عمدگی سے انہوں نے اس رشتہ کو نبھایا، بہت کم لوگ اس طرح نبھا سکتے ہیں۔ان کے والد مولوی عبد الماجد صاحب زندہ ہیں لیکن بہت ضعیف، اللہ تعالیٰ انہیں صبر کی توفیق دے اور ان کی قربانی کو قبول کرے سارہ بیگم کے چار بھائی اور ایک بہن زندہ ہیں۔سب سے بڑے پروفیسر عبد القادر صاحب انگریزی اور عربی کے عالم ہیں اور خدمت دین کا جوش رکھتے ہیں لیکن بیمار رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں صحت کامل اور ایمانِ کامل عطا فرمائے۔تین چھوٹے بھائی بے کار ہیں اللہ تعالیٰ انہیں بھی دین اور دنیا میں عزت عطا فرمائے۔پروفیسر عبد القادر صاحب کا لڑکا علی میں نے کبھی دیکھا نہیں لیکن گھر میں سب سے زیادہ مجھ سے تعلق رکھتا ہے اور باقاعدہ خط لکھتا رہتا ہے یہ بچہ مجھے بہت عزیز ہے۔اللہ تعالیٰ اسے اپنے قرب کا مقام عطا کرے اور اپنی ہر قسم کی برکات سے حصہ وافر عطا فرمائے۔خدا تعالیٰ مرحومہ کی ہمشیرہ اور دوسرے رشتہ داروں کو بھی صبر کی توفیق دے۔سارہ بیگم نے اور کوئی کام کیا یا نہیں لیکن بنگال اور بہار کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رشتہ داری میں شامل کر گئی ہیں۔ان کی اولاد کے ذریعہ سے إنْشَاءَ اللهُ يتعلق ایک پائیدار تعلق رہے گا۔جب تک اک سے ہزار ہوویں مولا کے یار ہوویں