انوارالعلوم (جلد 13) — Page 94
۹۴ انوار العلوم جلد ۱۳ چوں خاک باش و مرضی یارے دراں بجو میری ساره اس مضمون کی غرض میری اس مضمون کے لکھنے سے ایک تو یہ غرض ہے کہ مرحومہ کے نیک از کار کو دنیا میں قائم رکھنے کی کوشش کروں تا کہ جب انکی اولاد اللہ تعالیٰ کے فضل سے جوان ہو تو ان کی نیکیوں کی پیروی کی کوشش کرے۔دوسرے میں مستورات کو بتانا چاہتا ہوں کہ ان کی تعلیم اور مرحومہ کی تعلیم میں ایک فرق ہے۔دوسری مستورات اپنی ذاتی اغراض کیلئے تعلیم حاصل کر رہی ہیں لیکن مرحومہ کی غرض صرف خدمت دین تھی اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی۔پس ان میں سے بھی جسے اللہ تعالیٰ توفیق دے وہ دنیا طلبی کا خیال چھوڑ کر خدا کی رضا کو مقدم رکھے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت قادیان میں ہمارے گھر کی مستورات کو دیکھ کر تعلیم کا عام چر چاہے لیکن بہت سی لڑکیاں محض روٹی کمانے کے لئے اور نوکری کرنے کیلئے پڑھ رہی ہیں حالانکہ عورت کا کام نوکری کرنا نہیں ہے۔یہ عورتوں کی ملازمتوں کا دستور مغربیت کی لعنتی یادگاروں میں سے ایک یادگار ہے۔اسلام نے روپیہ بہم پہنچا نا مرد کے ذمہ لگایا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَي بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ اَمْوَالِهِمْ فَالصَّلِحْتُ قنتت حفِظتُ لِلْغَيْب بمَا حَفِظَ الله یعنی مرد عورتوں پر بطور نگران مقرر ہیں اس وجہ سے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔یعنی مرد کو نگرانی کے مواقع اور نگرانی کی قوتیں زیادہ عطا فرمائی ہیں اور اس وجہ سے بھی کہ مرد کا کام ہے کہ وہ عورت کی ضرورتوں کو مہیا کرے اور اس پر اموال خرچ کرے۔پس نیک عورتوں کو چاہئے کہ بجائے کسی دوسری طرح اپنے اوقات خرچ کرنے کے مردوں کی حفاظت اور نگرانی میں اپنے وقت بسر کریں اور مردوں کی غیر حاضری میں جب کہ وہ کسبِ معیشت کیلئے باہر گئے ہوئے ہوں اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان امانتوں کی حفاظت کریں جو ان کے سپرد کی گئی ہیں۔یعنی امور خانہ داری کی طرف متوجہ ہوں ، بچوں کی تربیت کریں، گھر اور محلہ کے اخلاق کو درست رکھیں وغیرہ وغیرہ۔مگر افسوس کہ یہ آیت اور اسلام کے اصل کو بعض اہلِ قادیان بھول رہے ہیں اور مغرب کی نقل میں اندھا دھند بغیر اس مقصد کو سمجھنے کے جس کیلئے میں تعلیم دلوا رہا ہوں ، ایک غلط راستہ کے پیچھے پڑگئے ہیں۔ہمارے مردوں کو تو مغرب نے اپنا غلام بنالیا ،عورتیں باقی تھیں اگر وہ بھی اسی طرح مغرب کی غلامی میں چلی گئیں تو دین کی خبر گیری کون کرے گا۔مرد تو خیر حالاتِ زمانہ سے مجبور ہورہے ہیں عورتوں کو کیوں اسی کنویں میں دھکیلا جائے جس میں سے۔