انوارالعلوم (جلد 13) — Page 90
انوار العلوم جلد ۱۳ ۹۰ میری ساره ان سے ہنسی مذاق کی بات کرتا تو وہ اسے سنجیدگی پر محمول کرتیں اور کئی دفعہ انہیں یہ یقین دلانے میں کہ یہ بنی تھی ، اچھی خاصی دقت ہوتی۔جب وہ شروع میں آئیں تو چندہ دینے پر اس قدر دلیر نہ تھیں یعنی ماہوار چندہ کے علاوہ دوسرے چندوں میں زیادہ دلیری سے حصہ نہیں لیتی تھیں لیکن آہستہ آہستہ یہ نقص دور ہو گیا تھا۔ہاں تکلف ان کی طبیعت میں نہ تھا ، نمائش نہ تھی ، وہ جو کچھ دیتیں ، خدا کیلئے دیتی تھیں۔اُن کی وفات پر درد صاحب کی ہمشیرہ نے مجھے پیغام بھجوایا کہ بیماری کی حالت میں کہتی تھیں کہ میں نے توسیع مسجد اقصیٰ کے لئے ایک سو روپیہ چندہ دینے کی نیت کی ہوئی ہے اور اپنا گلو بند بیچ کر اس میں سے اس رقم کو ادا کرنا ہے اگر میں مرگئی تو حضرت صاحب سے کہنا کہ میری طرف سے میرا گلو بند فروخت کر کے سو روپیہ چندہ توسیع مسجد اقصیٰ میں دے دیں۔چونکہ اُن کے پاس دو تین سو کی مالیت کے دو تین زیور تھے مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریق عمل یاد آ گیا۔ایک دفعہ آپ کے ایک داماد ایک جنگ میں قید ہو کر آئے آپ نے دوسرے قیدیوں کی طرح اُن سے بھی فدیہ طلب کیا انہوں نے اپنی بیوی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِدَاهُ جِسْمِی وَ قَلْبِی کی صاحبزادی کو کہلا بھیجا کہ روپیہ کا انتظام کرو۔ان کے پاس اور تو کچھ نہ تھا والدہ کا دیا ہوا ایک ہار تھا، وہی بھجوا دیا۔جس وقت وہ ہار رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور آپ نے صحابہ کو بلا کر کہا کہ یہ ہار خدیجہ مرحومہ نے اپنی بیٹی کو دیا تھا اگر چاہو تو پن ماں کی بچی کو اُس کی ماں کی یادگار واپس کر دو۔صحابہ جو اپنی جان و مال آپ پر فدا رکھتے تھے ، اس نظارہ کو دیکھ کر بے تاب ہو گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمارے مال و جان آپ پر فدا ہوں زینب کو اُن کا ہار وا پس فرمائیے اور اُن کے خاوند کو آزاد۔ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ ان سے کوئی فدیہ لیا جائے۔مجھے بھی یہ واقعہ یاد آیا اور میں نے کہا۔ماں کی کوئی یاد گار تو اس چھوٹی سی بچی کے پاس رہنی چاہئے جو بڑی ہو کر اپنی ماں کی صورت بھی یاد نہ کر سکے گی اور روپیہ اپنے پاس سے ادا کر کے گلو بند عزیزہ امت النصیر سلمہا اللہ تعالیٰ کیلئے رکھ لیا۔اللہ تعالیٰ اس بار کو اس کے لئے دنیا کی محبت کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ اسے یہ سبق دیتا رہے کہ جس طرح اس کی ماں نے یہ ہار خدا کی راہ میں قربان کرنا چاہا تھا اسی طرح اسے بھی چاہئے کہ جو کچھ بھی خدا اسے دے، وہ اسے نیکی کی راہ میں خرچ کرتی جائے۔اللھم امِینَ۔مرحومہ نہایت کم گو تھیں لیکن تقریر کر سکتی تھیں ، مضمون اچھا لکھ سکتی تھیں، آیات قرآنیہ سے