انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 89

انوار العلوم جلد ۱۳ ۸۹ میری ساره کی اہلیہ ) کو ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ۔ آمنہ نے جس وقت سے سنا ہے وہ پڑی ہوئی ہے اور رورہی ہے ۔ حضور کا خادم فوراً حاضر ہوتا اور محترمہ سیدہ موصوفه مرحومه خـــلـــد الـــلـــه مَكَانَھا کے مزار مبارک پر پہنچتا مگر یہ گناہگا رشومئی قسمت سے اس وقت فم معدہ کے دورہ میں مبتلاء بستر پر پڑا ہے اور اسی حالت میں یہ عریضہ لکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جوار رحمت میں جگہ دے۔ آمین ۔ جنازہ غائب اِنْشَاءَ اللہ پڑھا جائے گا ۔ حضور ! حضور کی ازواج مطہرات تمام کی تمام ہم گنہ گاروں کیلئے بے حد قابل عزت و تکریم ہیں اور مجھ گنہ گار کے دل میں مرنے تک یہ عزت قائم رہے گی مگر آپا محترمہ سیدہ حضرت امتہ الحی مرحومہ خلد اللهُ مَكَانَهَا کے بعد آ پا جان محترمه سیده ساره بیگم صاحبہ مرحومه خلد الله مَكَانَهَا ایک لعلِ بے بہا اور درخشندہ گو ہر تھیں ، وہ ایک انمول موتی تھیں ، وہ سلسلہ عالیہ میں ایک بہت بڑا رکن تھیں ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِک کہ مجھے اُن کی خدمت کا شرف تھوڑا سا عرصہ حاصل ہوا ہے ۔ (چوہدری صاحب انہیں فلاسفی پڑھاتے رہے ہیں ۔ جَزَاهُمُ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ) اور اس قلیل عرصہ میں میں نے اُن میں ایسی خوبیاں دیکھیں کہ تمام عمر فراموش نہیں ہوسکیں گی اور تمام عورتوں کیلئے اُن کی زندگی مشعل راہ ہے۔ امورِ خانہ داری، بچوں کی دیکھ بھال ، لجنہ کا کام پھر تعلیم حاصل کرنے کا اِس قدر شوق یہ سب کچھ ان کی ذات ہی سے ہو سکتا تھا۔ یہ تو دو استادوں کے خطوط ہیں ۔ ایک غیر مذہب کی معزز خاتون جو ایف۔ اے کے امتحان کی نگران ہو کر آئی تھیں ، یعنی مسز سنگھا جو مسٹر سنگھا کنٹرولر آف اگزیمینیشن پنجاب یونیورسٹی کی اہلیہ صاحبہ ہیں تحریر فرماتی ہیں:۔ ”سارہ بیگم ایک نہایت ہی با اخلاق عورت تھیں ۔ مجھے انہیں صرف چند دن دیکھنے کا موقع ملا ۔ ( یعنی جب وہ امتحان کی نگرانی کیلئے تشریف لائی تھیں ) لیکن انہوں نے میرے دل میں اس حد تک اپنا گھر بنا لیا کہ میرے لئے یہ خیال کرنا بھی ناممکن ہے کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ سارہ بیگم کی عادات وہ خاموش منکسر المزاج اور ہمدردانہ رنگ رکھنے والی تھیں، لیکن بنی اور مزاح عادی نہ تھیں، وہ مزاح کو سجنے کی بھی اہلیت نہ رکھتی تھیں اور مولویا نہ سا رنگ اُن پر غالب تھا۔ چونکہ ہمارا خاندان مزاح کا زبردست میلان رکھتا ہے اور باوجود سنجیدگی کے خوش مزاج ہے کئی دفعہ اس وجہ سے غلط فہمی ہو جاتی میں کبھی