انوارالعلوم (جلد 13) — Page 88
انوار العلوم جلد ۱۳ ۸۸ میری ساره کیوں نہیں پڑھنا چھوڑ دیتے تو ہمیشہ یہ جواب ملتا کہ میں حکم کی بندی ہوں، میری کوئی چیز بھی اپنی نہیں۔ حضور ! میں سچ عرض کرتا ہوں کہ میری عقیدت جو آپ کی ذات سے ہے، اگر اس میں شعور بخشا تو مرحومہ کے اُس علم نے جو اُس کو خدا نے آپ کے متعلق عطا فرمایا تھا۔ پھر لکھتے ہیں کہ جب امتحان کے سنٹر کا سوال تھا تو میں نے اُن سے جب تاکید سے کہا کہ وہ حضور سے کہیں تو کہنے لگیں ۔ ماسٹر صاحب ! آپ کو کیا علم ہے کہ میری طبیعت پر حضرت صاحب کا رعب کتنا غالب ہے۔ میں تو اُن کی موجودگی میں مرعوب رہتی ہوں جب میں اپنے آپ کو دیکھتی ہوں اور پھر ان پر نظر ڈالتی ہوں تو شرمندہ ہو جاتی ہوں“۔ پھر لکھتے ہیں کہ :۔ :۔ دو ” وہ فیل ہونے سے بڑی گھبراتی تھیں۔ میرے پوچھنے پر کہ وہ آخر اتنا کیوں گھبراتی ہیں؟ تو اس کا جواب بھی یہی دیتیں کہ میرے فیل ہونے سے حضرت صاحب کی تجاویز فیل ہوتی ہیں۔ مرحومہ کا علم سیکھنے کا شغف اور اخلاق مرحومہ کوعلم کے حصول کیلئے جو شغف تھا ایک اور فقرہ درج کرتا ہوں وہ لکھتے ہیں ۔ اس کے متعلق انہی ماسٹر صاحب کا میں نے ہمیشہ دیکھا کہ مطالعہ میں خود فراموشی کی سی حالت رہتی تھی اور ایسا احساس ہوتا تھا کہ واقعی وہ ایک مشین ہیں اور کوئی چلانے والا ہے جس کے اشارہ پر وہ چل رہی ہیں۔ ان کے ایک اور استاد چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے چھوٹے بھائی چوہدری عبداللہ خاں صاحب بی ۔ اے لکھتے ہیں ۔ آج چوہدری فضل داد صاحب کلرک قبلہ برادرم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے خط سے معلوم ہوا ہے کہ محترمہ سیدہ آپا جان ساره بیگم صاحبہ اپنے خالق و مالک حقیقی سے جاملی ہیں ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - حضور ! جس قد رصد مہ حضور کے گنہ گار خادم اور آمنہ ( ان