انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 81

انوار العلوم جلد ۱۳ ۸۱ میری ساره نہیں ۔ ایک شخص کو بوٹ لانے کیلئے کہا گیا وہ بوٹ لے کر دکھانے کیلئے لایا تو میں نے امتہ النصیر سے کہا تم پسند کر لو جو بوٹ تمہیں پسند ہو وہ لے لو۔ وہ دو قدم تو بے دھیان چلی گئی پھر یکدم رکی اور ایک عجیب حیرت ناک چہرہ سے ایک دفعہ اس نے میری طرف دیکھا اور ایک دفعہ اپنی بڑی والدہ کی طرف جس کا یہ مفہوم تھا کہ تم تو کہتے ہو جو بوٹ پسند ہو لے لو مگر میری ماں تو فوت ہو چکی ہے، مجھے بوٹ لے کر کون دے گا ۔ میں اس امر کے بیان کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتا کہ وفور جذبات سے اُس وقت مجھے یقین تھا کہ اگر میں نے بات کی یا وہاں ٹھہرا رہا تو آنسو میری آنکھوں سے ٹپک پڑیں گے اس لئے میں نے فوراً منہ پھیر لیا اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے چل دیا کہ بوٹ اپنی امی جان کے پاس لے جاؤ ۔ ہمارے گھر میں سب بچے اپنی ماؤں کو خالی امّی اور میری بڑی بیوی کو امی جان کہتے ہیں۔ میں نے جاتے ہوئے مڑ کر دیکھا تو امۃ النصیر اپنے جذبات پر قابو پا چکی تھی وہ نہایت استقلال سے بوٹ اُٹھائے اپنی امی جان کی طرف جا رہی تھی ۔ بعد کے حالات نے اس امر کی تصدیق کر دی کہ وہ اپنی والدہ کی وفات کے حادثہ کو باوجود چھوٹی عمر کے خوب سمجھتی ہے۔ چنانچہ اس کے بھائی نے اُسے دق کیا اور پھر اپنے ظلم کو اور زیادہ سنگین بنانے اور اُس کے دل کو دکھانے کی نیت سے اُسے کہا کہ کیا تم میرے اس چھیڑنے کی شکایت اپنی امی سے کروگی ؟ اُس نے نہایت سنجیدگی ایک وو سے جواب دیا کہ نہیں بھائی میں اپنی اپنی امی سے شکایت نہیں کر سکتی ۔ ” خدا کی کچھم ( خدا کی قسم ) میری امی تو اللہ میاں کے پاس چلی گئی ہیں وہ تو اب کبھی واپس نہیں آئیں گی۔ یہ گفتگو مجھے گھر کے ایک اور بچے نے سنائی اور مجھے یقین ہو گیا کہ امتہ النصیر موت کی حقیقت کو جانتی ہے اُس کا فعل صابرا نہ فعل ہے اور وہ اپنی ماں کی سچی یادگار ہے ۔ وہ حقیقت کو جانتے ہوئے اپنے دل پر قابو پائے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ اس منھی سی گلی کو مُرجھا جانے سے محفوظ رکھے، وہ اِس امۃ النصیر کیلئے دعا چھوٹے سے دل کو اپنی رحمت کے پانی سے سیراب کرے اور اچھے خیالات اور اچھے افکار اور اچھے جذبات کی کھیتی بنائے جس کے پھل ایک عالم کو زندگی بخش، ایک دنیا کیلئے موجب برکت ثابت ہوں ۔ اَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ خدا ! تو جو دلوں کو دیکھتا ہے جانتا ہے کہ یہ بچی کس طرح صبر سے اپنے جذبات کو دبا رہی ہے تیری صفات کا علم تو نہ معلوم اِسے ہے یا نہیں مگر تیرے حکم پر تو وہ ہم سے بھی زیادہ بہادری سے عامل ہے۔اے مُغیث ! میں تیرے سامنے