انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 79

انوار العلوم جلد ۱۳ ۷۹ میری ساره تیز لکھ سکتی تھیں اور کئی مضامین میں نے ان سے لکھوائے ہیں ۔ ان کی زود نویسی کی وجہ سے خیالات میں پریشانی نہ ہوتی اور میں آسانی سے انہیں مضمون لکھوا سکتا تھا۔ ساره بیگم کی اولا د ا س کو مصر من النار اولاد اس عرصہ میں ان کے پانچ بچے ہوئے دو ایام حمل میں ہی ضائع اور تین خدا کے فضل سے زندہ ہیں ۔ بڑے کا نام ہو ے کا نام رفیع احمد ہے، درمیانی لڑکی ہے اور اس کا نام امتہ النصیر ہے ، چھوٹے بچے کا نام حنیف احمد ہے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں اسم باسٹی بنائے اور اس قسم کے نیک اعمال کی توفیق دے کہ اپنی ماں کیلئے نیک یادگار چھوڑیں اور ان کے نیک کاموں کی وجہ سے ان کی ماں کا درجہ بلند ہوتا رہے ۔ یہ بچے اپنی ماں کی طرح نہایت صابر ہیں ۔ حنیف احمد سلمہ اللہ تعالیٰ تو ابھی چھوٹا ہے۔ وہ چونکہ صرف ڈیڑھ ماہ کا تھا کہ ان کی پڑھائی کی وجہ سے ماں سے جُدا کر دیا گیا اور ننھیال بھیجوا دیا گیا وہاں سے ماں کی وفات سے صرف تین دن پہلے آیا وہ گویا اپنی ماں سے بالکل نا واقف ہے اور ابھی اس کی عمر بھی ایک سال سے دو تین ماہ اُوپر ہے اس لئے اسے تو ماں کی موت یا زندگی کی کوئی جس ہی نہیں ۔ چھ سالہ بچہ کا غیر معمولی عمل یقین علامہ لا الہ تھا کہ وہ بھی اپنے گیا لیکن رفیع احمد سلمہ اللہ تعالیٰ کہ وہ بھی اپنے ننھیال گیا ہوا تھا اور والدہ کی وفات سے صرف تین دن پہلے واپس آیا۔ اس کی عمر چھ سال سے کچھ اوپر ہے۔ اس کی نسبت را ولپنڈی سے واپسی پر مجھے معلوم ہوا کہ جوں ہی ان کی والدہ فوت ہوئی ، وہ اپنی بہن امۃ النصیر کو جو والدہ کے پاس رہنے کے سبب سے سب سے زیادہ والدہ سے مانوس تھی ، ایک طرف لے گیا اور ایک دروازہ کے پیچھے کھڑے ہو کر دیر تک اسے کچھ سمجھاتا رہا۔ اس کے بعد جب مرحومہ کو نسل دے کر چار پائی پر لٹا دیا گیا تو ایک پھولوں کا ہار لے کر آیا اور پہلے والدہ کے ماتھے پر بوسہ دیا پھر ہار گلے میں ڈال کر اپنے آنسؤوں کو بزور روکتا ہوا اپنے منہ کو ایک طرف کر کے تا کہ اس کے جذبات کو کوئی دیکھ نہ لے، دوسرے کمرہ میں چلا گیا۔ اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ وہ ایک چھ برس کا بچہ ہے، یہ عمل ایک غیر معمولی عمل ہے، ایک حیرت انگیز صبر کا مظاہرہ ہے ۔ جب میں واپس آیا اور میں نے رفیع احمد کو بلوایا تو میں نے دیکھا کہ وہ میری آنکھوں سے آنکھیں نہیں ملاتا تھا اور اپنے جذبات کو پورے طور پر دبانے کی کوشش کر رہا تھا ۔ وہ ڈرتا تھا کہ اگر میری آنکھوں سے اُس کی آنکھیں ملیں تو اپنے آنسو نہیں روک سکے گا شاید وہ کہیں چُھپ کر رویا ہو تو رویا ہو میں نے اُسے روتے ہوئے نہیں دیکھا۔