انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 73

انوار العلوم جلد ۱۳ ۷۳ میری ساره اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ۔ هُوَ النَّاصِرُ میری ساره بر آستان آنکه ز خود رفت بهر یار چوں خاک باش و مرضی یارے دراں بجو وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۱۹۲۴ء میں جب میں انگلستان کے تبلیغی دورہ سے واپس آیا تو ابھی امتهای مرحومہ میں جہاز میں تھا کہ عزیزم عزیزم خلیل احمد پیدا ہوا اور میر میری پیاری بیوی امة الحی سخت بیمار ہو گئیں ۔ اللہ تعالیٰ نے میری دعاؤں کو سنا اور میرے قادیان کے پہنچنے تک انہیں زندہ رکھا ۔ پھر وہ میرے دل کی راحت اور میری جان کا سکھ ، میرے آقا، میرے مولی ، میرے محبوب کی مشیت کے ماتحت مجھ سے جدا کر دی گئی ۔ بلانے اسی والا ہے سب سے پیارا اے دل تو جاں فدا کر امہ الحی اپنی ذات میں بھی نہایت اچھی بیوی تھیں مگر ان میں ایک خاص بات بھی تھی ۔ ان کی شکل اپنے والد ، میرے سن ، میرے پیارے استاد حضرت مولوی نورالدین صاحب سے بہت ملتی تھی ۔ نسوانی نقش جس حد تک مراد نہ خوبصورتی کو ظاہر کر سکتے ہیں اس حد تک وہ اپنے والد کی یاد دلاتی تھیں ۔ سوائے عبدالحی مرحوم کے ان کے بھائیوں میں سے کوئی بھی اس شباہت کو ظاہر نہیں کرتا جو ان کے نقوش سے ظاہر ہوتی تھی ۔ میرے لئے وہ یاد نہایت پیاری اور وہ شباہت نہایت محبوب تھی ، پھر ان کا علمی مشغلہ، وہ بیماری اور کمزوری میں عورتوں کو پڑھانا، وہ علمی ترقی کا شوق