انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 491

491 انوار العلوم جلد ۱۳ تفصیل کے لئے دیکھو میرا اشتہار مطبوعہ ۷۔نومبر ۱۹۳۵ ء ) مگر افسوس کہ اس وقت تک ان کی طرف سے نہ تو یہ اعلان ان الفاظ میں ہوا ہے جن الفاظ میں کہ میرا مطالبہ تھا اور نہ ہی ایسی کوئی تحریرہ ہمارے مطالبہ کے مطابق ہمیں دی گئی ہے۔اگر یہ میرا بیان درست نہیں تو اس کے لئے بھی میں شرائط مذکورہ بالا کے مطابق ایک سو روپیہ کا مزید انعام مقرر کرتا ہوں۔جماعت احمدیہ کے نمائندے احرار کے اشتہارات اور نیز بعض گواہوں کو گواہیوں سے یہ ثابت کریں گے کہ مباہلہ کے علاوہ احرار اس موقع پر قادیان میں ایک اور اجتماع بھی کرنا چاہتے تھے۔اگر احرار اس کی تردید کریں کہ کانفرنس کی تحریک کا کوئی اشتہار ان کے قادیان کے کارکن اور صدر کی طرف سے شائع نہیں ہوا اور یہ کہ ان کے زعماء نے مختلف جگہوں میں مباہلہ کرنے والے کے سوا دوسرے لوگوں کو بھی اس موقع پر قادیان میں جمع ہونے کی تحریک نہیں کی اور جلسہ اور تقریروں کی امید نہیں دلوائی تو وہ اس کا اعلان کر دیں جس پر جماعت احمدیہ کی طرف سے ایک سور و پیہ کچلو صاحب کے پاس جمع کروا دیا جائے گا جو احرار کے ثبوت کو سچا سمجھنے کی صورت میں ان کو بلا توقف یہ رقم دے دیں گے۔ورنہ عدم ثبوت یا پندرہ دن تک ثبوت پیش نہ کرنے کی صورت میں یہ رقم روپیہ جمع کرانے والے کو واپس کر دیں گے۔ہاں یہ شرط ہو گی کہ میرے ان سب مطالبات جن کے متعلق میں نے انعامات مقرر کئے ہیں، کٹھی تحقیق کی جائے۔ایک ایک کو الگ الگ لینے کی اجازت نہ ہوگی تاکہ معاملہ لٹکتا نہ چلا جائے۔سوائے اس صورت کے کہ احراران مطالبات میں سے بعض کے اپنی غلطی تسلیم کر لیں کہ اس اس بارہ میں ہم سے غلطی ہوگئی ہے اس لئے صرف فلاں فلاں معاملے کی ہم تحقیق کرانا چاہتے ہیں۔اگر احرار کو مسٹر سیف الدین صاحب کچلو کی شخصیت پر اعتراض ہو تو میں اس امر کے لئے بھی تیار ہوں کہ مسٹر عبد اللہ یوسف علی صاحب آئی سی ایس ریٹائرڈ۔یا سر محمد یعقوب یا مولانا ابوالکلام صاحب آزاد میں سے کسی کو ان امور کے تصفیہ کے لئے تجویز کر دیا جائے۔مذکورہ بالا اشخاص میں سے جس پر بھی احرار کو اعتماد ہو میں شرائط مذکورہ بالا کے مطابق فیصلہ ان پر چھوڑ نے کے لئے تیار ہوں اور احرار کی منظوری کے بعد مقررہ روپیہ فوراً جماعت احمدیہ کی طرف سے ان کے پاس جمع کرا دیا جائے گا۔برادران! اگر احرار کو مباہلہ کرنا مطلوب ہے نہ کہ کا نفرنس تو قادیان پر نہیں کیوں اصرار