انوارالعلوم (جلد 13) — Page 490
انوار العلوم جلد ۱۳ 490 لاتے اور دوسری طرف مباہلہ کے بہانے سے لوگوں میں کانفرنس کی تیاری کی تحریک کر رہے ہیں تو میں نے مناسب سمجھا کہ اب اس معاملہ کا دوٹوک فیصلہ ہو جانا چاہیئے۔چنانچہ میں نے اس خیال سے کہ شاید احرار میری اخباری اعلانات کا جواب دینے میں اپنی ہتک محسوس کرتے ہوں۔( گو اس میں ہتک کی کوئی بات نہ تھی ) میں نے ناظر دعوۃ تبلیغ کو اپنانمائندہ ہونے کی تحریر لکھ دی۔اور یہ تحریر بذریعہ رجسٹری ۱۵ نومبر کو انہوں نے مجلس احرار کو بھجوا کر خواہش کی کہ وہ ان سے شرائط کا تصفیہ کر لیں۔لیکن آج تک اس کا بھی کوئی جواب احرار کی طرف سے نہیں دیا گیا۔اگر میرا یہ بیان درست نہیں تو میں اس کے غلط ثابت کرنے کیلئے بھی مزید ایک سو روپیہ کی رقم مجلس احرار کیلئے بطور انعام مقرر کرتا ہوں۔اگر وہ یہ ثابت کر دیں کہ ایسا رجسٹری خط انہیں نہیں بھجوایا گیا یا یہ کہ اس رجسٹری کا جواب وہ میری اس تحریر سے پہلے ناظر دعوة وتبلیغ کو تحریراً بھجوا چکے ہیں تو ایک سوروپیہ جو میرا کوئی نمائندہ پہلے سے مسٹر کچلو کے پاس جمع کرا دے گا مسٹر کچلو کے پاس جمع کرا دے گا مسٹر کچلو احرار کے سپرد کر دیں گے۔لیکن اگر وہ میری بات کو غلط ثابت نہ کر سکے یا روپیہ جمع کرانے کے بعد پندرہ دن کے اندر انہوں نے مسٹر کچلو کے پاس اپنا ثبوت پیش نہ کر دیا تو پھر یہ روپیہ جمع کرانے والے کو واپس دے دیا جائے گا۔دوسری حرکت جس کا ارتکاب احرار کی طرف سے ہو رہا تھا یہ تھی کہ وہ اس مباہلہ کے چیلنج کو قادیان میں کانفرنس کے انعقاد کا ذریعہ بنا رہے تھے۔میں نے اس امر کا ثبوت پیش کر کے اپنے اشتہار مورخہ ۷۔نومبر کے ذریعہ اعلان کر دیا کہ اگر احرار فی الواقع مباہلہ کرنا چاہتے ہیں نہ کہ کانفرنس یا جلسہ تو اخباروں میں اعلان کر دیں کہ وہ زمانہ مباہلہ میں قادیان میں علاوہ مجلس مباہلہ کے وہ کوئی اور کانفرنس یا جلسہ نہیں کریں گے نہ اپنی طرف سے نہ ماتحت مجالس کی طرف سے اور نہ افراد کی طرف سے۔اور یہ کہ وہ صرف انہیں لوگوں کو ساتھ لائیں گے جن کے نام مباہلہ کی فہرست میں آجائیں جو فہرست کے شائع شدہ شرائط کے مطابق پانچ سو یا ہزار سے زائد نہیں ہونی چاہیئے، سوائے دس یا پندرہ فی صدی کے جو بطور ریز رو ر کھے جائیں تا غیر حاضروں کی جگہ ان سے پر کی جائے۔اور میں نے لکھا تھا کہ ایسی تحریر میں قبل از وقت دینے کی صورت میں ہم قادیان میں ہی مباہلہ کرنے پر تیار ہوں گے۔اور اگر وہ یہ تحریر نہ دیں اور ایسا اعلان کریں تو اس کے یہ صاف معنی ہوں گے کہ وہ مباہلہ کا کا نفرنس کا بہانہ بنانا چاہتے ہیں۔