انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 489

انوار العلوم جلد ۱۳ 489 طرف سے ۱۶۔اکتوبر کو دیا گیا جس میں یہ لکھا گیا کہ پہلے حسب اعلان شرائط کا تصفیہ ہونا ضروری ہے، اس کے بعد مباہلہ کی تاریخ مقرر ہوگی۔اس کا جواب احرار کی طرف سے آج تک نہیں ملا۔لیکن باوجود اس کے وہ لوگوں کو یہ دھوکہ دے رہے ہیں کہ وہ مباہلہ کرنا چاہتے ہیں لیکن امام جماعت احمد یہ اس سے گریز کرنا ہے۔اگر میرا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ۲۔اکتوبر کو ان کے نام ان کے تار کے جواب میں ایک چٹھی ہماری جماعت کی طرف سے بھیجی گئی یا یہ غلط ہے کہ اس چٹھی کا جواب اس وقت تک ناظر دعوۃ و تبلیغ کو بذریعہ چٹھی احرار کی طرف سے نہیں ملا تو میں اس پر ایک سو روپیہ کا مزید انعام مقرر کرتا ہوں۔اور اس کے لئے بھی مسلمانوں کے مشہور لیڈر مسٹرسیف الدین صاحب کچلو کو ثالث تسلیم کرنے کو تیار ہوں۔اگر وہ دونوں طرف کے کاغذاب کو دیکھ کر اور اور ثبوت سن کر یہ فیصلہ کر دیں کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے احرار کو کوئی ایسی تحریر نہیں بھیجی گئی یا یہ کہ اس تحریر کا جواب احرار کی طرف سے بذریعہ خط ناظر دعوۃ و تبلیغ جماعت احمدیہ کو دے دیا گیا تھا تو ایک سو روپیہ مجلس احرار کو ہماری طرف سے ادا کر دیں ورنہ ان کے خلاف فیصلہ ہونے پر یا اس صورت میں کہ پندرہ دن کے اندر اندر وہ اپنا ثبوت مسٹر کچلو کے پاس پیش نہ کریں، وہ رقم روپیہ جمع کرانے والے کو واپس کر دی جائے گی۔جب بھی احرار چاہیں یہ روپیہ مسٹر کچلو صاحب کے پاس ہمارا کوئی نمائندہ جمع کرا دے گا۔اگر احرار دیانت سے کام لے رہے ہیں تو یہ فیصلہ جو میں خود انہیں کے ایک ہم مذہب کے سپرد کرتا ہوں، وہ اس کے لئے آمادہ ہو جائیں اور مقررہ انعام ہم سے وصول کر لیں۔یه درست ہے کہ احرار نے ہمارے چیلنج کے جواب میں اخباروں میں یہ اعلان کرنا شروع کیا تھا کہ انہیں سب شرائط منظور ہیں۔لیکن حقیقتا یہ درست نہیں تھا کیونکہ اول اگر انہیں واعقی سب شرائط منظور تھیں تو کیوں انہیں ان شرائط کے تحریر میں لانے سے گریز تھا۔دوسرے میری شائع کردہ شرطوں میں یہ شرط بھی شامل تھی کہ دونوں طرف کے نمائندے مل کر آخری ڈھانچہ شرائط کا طے کر لیں۔لیکن جب وہ جماعت احمدیہ کے نمائندوں کو جواب تک نہیں دیتے تھے تو اس شرط کا پورا ہوا تو الگ رہا، شرطوں کے پورا ہونے کا امکان تک باقی نہ رہا تھا۔جب معاملہ اس حد تک پہنچا اور میں نے دیکھا کہ ایک طرف تو احرار شرطوں کو تحریر میں نہیں