انوارالعلوم (جلد 13) — Page 481
انوار العلوم جلد ۱۳ 481 سکے۔اور ہو سکے تو کچھ فساد بھی کھڑا کر دیا جائے۔ورنہ مباہلہ میں نہ لمبی چوڑی تقریریں ہونی ہیں کہ ان کے سننے کے لئے لوگوں کو بلایا جا رہا ہے۔اور نہ وہاں کوئی تماشا ہونا ہے کہ جس کے دیکھنے کے لئے علاقہ کے لوگوں کو جمع کیا جا رہا ہے۔مباہلہ ہو کر چھپ جائے گا اور لوگوں کو خود حالات معلوم ہو جائیں گے۔(۴) مگر ان سب دلائل سے بڑھ کر چوتھی دلیل وہ اشتہار ہے۔جو (مولا نا ) عنایت اللہ امیر مجلس احرار قادیان (ضلع گورداسپور کی طرف سے قادیان کے نواحی علاقہ میں شائع ہو رہا ہے۔اس اشتہار میں چندہ کی اپیل کی گئی ہے اور لکھا ہے کہ:۔پچھلے سال قادیان میں جو کا نفرنس ہوئی تھی، اس میں نصف لاکھ کے قریب مسلمان جمع ہوئے تھے۔حالانکہ کا نفرنس کا پہلا سال تھا۔اس سال انشاء اللہ لاکھوں کی تعداد میں مسلمان قادیان میں جمع ہونے والے ہیں۔“ احرار کی قادیان میں فساد پیدا کرنی کی نیت غرض مذکورہ بالا باتوں سے ثابت ہے کہ احرار کی اصل غرض مباہلہ نہیں بلکہ کانفرنس کا انعقاد ہے۔اور قادیان میں مباہلہ ہونے پر اصرار بھی اسی وجہ سے ہے۔مگر قادیان ہمارا مقدس مقام ہے۔ہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد اس کو سب دنیا سے زیادہ عزیز جانتے ہیں۔ہم یہ نہیں کر سکتے کہ اپنے ہاتھوں سے فساد کی جگہ بنا ئیں۔اسلام نے اس اصل کو تسلیم کیا ہے کہ مقدس مقامات دوسرے لوگوں کی شرارتوں سے پاک رہنے چاہئیں۔پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم احرار کو کا نفرنس کے انعقاد میں مدد دیں۔اس لئے میں صاف لفظوں میں کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ہم قادیان میں مبالہ کے لئے تیار ہیں مگر کا نفرنس کے لئے نہیں۔اگر احرار کو فی الواقع مباہلہ منظور ہے تو ا۔شرائط طے کرلیں ۲۔پھر ایک تاریخ بتر اضی طرفین مقرر ہو جائے جس کی اطلاع حکومت کو بغیر ا نتظام دے دی جائے گی۔۳۔اگر وہ قادیان میں مباہلہ کرنا چاہتے ہیں تو لوگوں کو جو عام دعوت انہوں نے دی ہے اس کو عام اعلان کے ذریعہ سے واپس لیں۔