انوارالعلوم (جلد 13) — Page 475
انوار العلوم جلد ۱۳ 475 ہیں ۔ تسلیم کرنا چاہیئے ۔ اور ان باتوں میں سے بعض یہ ہیں ۔ ۱۔ مباہلہ میں پانچ سو یا ہزار آدمی بہ تراضی فریقین شامل ہوں ۔ یعنی دونوں طرف سے یا پانچ سو یا ہزار آدمی برابر تعداد میں شامل ہوں ۔ ۲۔ مقام مبالہ لا ہور یا گورداسپور ہو۔ لیکن بعد میں احرار کے اس مطالبہ پر کہ مقام مباہلہ قادیان ہو۔ میں نے لکھا۔ کہ اگر احرار کو لاہور یا گورداسپور پر کوئی خاص اعتراض ہو یا وہ قادیان میں اپنی شان دکھانا چاہتے ہوں ۔ تو قادیان ہی میں مباہلہ کیا جا سکتا ہے ۔ ۳ ۔ ایک کمیٹی دونوں فریق کی سب شرائط کو طے کرے ۔ اور اس کے فیصلہ کے بعد :۔ ۴۔ ایک تاریخی جو فیصلہ کے پندرہ دن بعد ہو مباہلہ کے لئے مقرر کی جائے ۔ میں نے اس امر پر روشنی ڈالی تھی کہ خالی منظوری کے اعلان سے ان امور پر روشنی نہیں پڑتی ۔ اور اس اعلان کی موجودگی میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ احرار نے میری سب شرطوں کو منظور کر لیا ہے ۔ پس دونوں فریق کے نمائندے غیر معین شرائط کو معین کریں اور تفصیلات کو طے کریں ۔ اور پھر بہ تراضی فریقین مباہلہ کی تاریخ مقرر کی جائے ۔ ورنہ خود ہی تاریخ مقرر کر دینا شرائط کو ماننا نہیں ان کو ہنسی اڑانا ہے ۔ اس قدر واضح اعلان کے بعد بھی میں دیکھتا ہوں کہ احرار صحیح طریق پر دو ا نہیں آتے اور نہ جماعت احمدیہ کے نمائندوں کے خطوط کا جواب دیتے ہیں ۔ اور نہ اپنی طرف سے شرائط طے کرنے کے لئے نمائندے مقرر کرتے ہیں ۔ بلکہ صرف ” مجاہد اخبار میں اعلان کرتے چلے جاتے ہیں جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ کوئی معین فیصلہ کرنا نہیں چاہتے ۔ دو میرے اشتہار کے جواب میں مسٹر مظہر علی صاحب اظہر نے جو بیان ” مجاہد میں شائع کیا ہے اور جو تقریر میں انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے چنیوٹ میں کی ہیں ان میں جو باتیں انہوں نے بیان کی ہیں، وہ ذیل میں درج کر کے میں ان کا بھی جواب دے دیتا ہوں تا کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ احرار کن ہتھیاروں پر آگئے ہیں ۔ کیا شرائط کی منظوری اسی کا نام سے مسٹر مہر علی صاحب نے چنیوٹ میں بیان کیا ہے کہ میں نے قادیان جا کر کہا تھا کہ مباہلہ قادیان میں ہونا چاہیئے ۔ اور مرزا صاحب کی صداقت پر ہونا چاہیئے اور مرزا محمود نے تسلیم کر لیا ہے ۔“ ( مجاہد ۶ نومبر صفحہ ۲) اسی کے متعلق سید فیض الحسن صاحب سجادہ نشین