انوارالعلوم (جلد 13) — Page 472
472 انوار العلوم جلد ۱۳ جماعت احمدیہ کے متعلق پنجاب کے بعض افسروں کا رویہ ۲۷۔جون کو خان صاحب فرزند علی ناظر امور عامه صد رانجمن احمدیہ نے پولیس کا رویہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس بٹالہ کیمپ لوکل حکام اور صوبہ کے اعلیٰ حکام کو ایک خط بھیجا جس میں ان کو مطلع کیا گیا تھا کہ ہم کو بعض احرار کے اس ارادے کے متعلق علم ہوا ہے کہ وہ ہمارے خلیفہ، ہمارے احمدی بھائیوں اور ہماری عورتوں پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔اس کے چند روز بعد میرے چھوٹے بھائی مرزا شریف احمد پر شارع عام میں حملہ کیا گیا۔اس اثناء میں پولیس نے اس قسم کے واقعات کو ناممکن الوقوع بنانے کے لئے کسی قسم کی احتیاطی تدابیراختیار نہ کیں، حالانکہ اس کو اس کے متعلق بر وقت مطلع کیا گیا تھا۔ہم ایک کھلے میدان میں ایک عمارت تعمیر کرنا چاہتے تھے گو وہ زمین ہماری تھی مگر اس خیال سے کہ کہیں عید گاہ کی طرح یہاں بھی کوئی جھگڑا کھڑا نہ کر دیا جائے، ہم نے ریونیو حکام سے اس کی حد بندی کرا لینی مناسب سمجھی چنانچہ حد بندی کرائی گئی اور ریونیو ریکارڈ سے بھی معلوم ہو گیا کہ وہ زمین میری اور میرے بھائیوں کی ملکیت تھی لیکن حد بندی ابھی ختم ہی ہوئی تھی کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس موقع پر آپہنچے اور انہوں نے حکم دیا کہ گو اس زمین کی حد بندی ریونیو حکام نے کی ہے مگر اس پر عمارت تعمیر کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی۔کچھ عرصہ پیشتر ہم نے اپنی زمین پر ایک دیوار کھڑی کر دی تھی تا کہ دیوار کا معاملہ ہمسائیوں کی زمین سے وہ علیحدہ ہو جائے لیکن عید گاہ کے معاملہ کے فوراً بعد اس دیوار کو ایک ہجوم نے جو میلہ کے سلسلہ میں اکٹھا ہوا تھا ، دن دہاڑے گرا دیا۔یہ میلہ کئی سال سے بند تھا اس سال صرف اس لئے منایا گیا کہ لوگوں کو اکٹھا کیا جائے اور کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑا جائے۔۔ایک نئی آبادی کے باشندوں کی درخواست پر صدرانجمن احمدیہ نے زمین مسجد کا معاملہ کا ایک ٹکڑا اُن کے حوالے کر دیا کہ وہ وہاں نماز پڑھا کریں اور آخر کار اس زمین پر مسجد کھڑی کی جانی تھی لیکن احراریوں نے اس کے نزدیک ہی شاملات میں سے ایک قطعہ اراضی پر قبضہ کر لیا اور اس پر مسجد تعمیر کرنے کی تیاری شروع کر دی حالانکہ وہ اپنی سابقہ شروع کی ہوئی عمارت کو جسے وہ جامعہ ملیہ کا نام دیتے تھے ابھی تک مکمل نہ کر سکے تھے وہ عمارت کئی ماہ سے بغیر چھت کے رہی۔اس نئے قطعہ اراضی پر انہوں نے کچھ اینٹیں وغیرہ اکٹھی کر لیں لیکن چونکہ اس بات کا کوئی نوٹس نہ لیا گیا اس لئے انہوں نے اس زمین کو چھوڑ دیا اور