انوارالعلوم (جلد 13) — Page 464
464 انوار العلوم جلد ۱۳ زلزلہ کوئٹہ بانی سلسلہ احمدیہ کی سچائی کا نشان ہے زلزلے کی ان الفاظ میں خبر دی گئی ہے۔اور انہی کی نہیں بلکہ بہت سے اور زلزلوں کی جو دنیا کو تباہ کر دینے والے اور انسانی امن کو برباد کر دینے والے ہو نگے۔دلوں کا امن جاتا رہے گا اور قلوب کا اطمینان تباہ ہو جائے گا کیونکہ لوگوں نے اپنے پیدا کرنے والے کی آواز کو نہیں سنا اور شیطان کے پیچھے لگ گئے اور خدا کی محبت کو دلوں سے نکال دیا اور دنیا کی محبت کو اپنے سینوں میں جگہ دی۔انہوں نے اپنے خیر خواہ کو گالیاں دیں اور اپنے دشمنوں کو اپنا سردار بنا لیا۔اے کاش! کہ وہ اپنی آنکھیں کھولتے اور دیکھتے کہ ان کے علماء انہیں کدھر لے جا رہے ہیں۔کیا وہ انہیں سچ کی تعلیم دیتے ہیں یا جھوٹ کی ؟ وہ انہیں اخلاق سکھاتے ہیں یا بد زبانی ؟ اور تو بہ کرتے اور خدا کے مامور کو قبول کرتے اور دلوں میں نیکی اور تقویٰ پیدا کرتے کہ لاف و گزاف سے خدا نہیں ملتا بلکہ عجز و انکسار سے ملتا ہے تب وہ دیکھتے کہ آسمان کی بادشاہت کے دروازے ان کے لئے کھل جاتے اور خدا تعالیٰ آسمان سے ان کی مدد کیلئے خود اُترتا۔اے عزیز و! جو تفصیلی پیشگوئیاں زلزلوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شائع کی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ "عَفَتِ الذِيَارُ كَذِکری که یعنی ایک علاقہ اس طرح مٹ جائے گا جس طرح اس میں میری نماز اور قرآن کریم کا چرچا مٹ گیا ہے۔اس پیشگوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ آنے والے زلزلوں میں سے کم سے کم ایک زلزلہ اسلامی علاقہ میں آئے گا۔جس طرح مسلمانوں میں سے نماز اور قرآن کریم پر عمل مٹ گیا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ اس علاقہ کو مٹا دے گا۔اب اے حق سے محبت رکھنے والی رُوحو! غور تو کرو کہ مسلمانوں میں کتنی تعداد نماز پڑھتی یا قرآن کریم کی طرف توجہ کرتی ہے؟ یقیناً دس پندرہ فیصدی سے زیادہ نہیں۔اب اس بات کو مد نظر رکھ کر کوئٹہ کے علاقہ کی تباہی کے حالات کو پڑھو تو تم کو معلوم ہوگا کہ وہاں کے مرنے والوں اور زخمیوں کی تعداد کی نسبت بالکل محفوظ رہنے والوں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہے۔یعنی وہاں بھی جو لوگ بالکل محفوظ رہے ہیں وہ دس پندرہ فیصدی ہی ہیں اور جو لوگ مرے یا زخمی ہوئے ہیں ان کی تعداد ۸۵ فیصدی کے قریب ہے۔اب سوچو کہ یہ کیسی واضح پیشگوئی تھی کہ جس میں نہ صرف علاقہ بتا دیا گیا تھا بلکہ مرنے والوں اور زخمی ہونے والوں کی تعداد تک کی طرف اشارہ کر دیا گیا تھا۔بلکہ جب ہم ایک اور الہام کو ملاتے ہیں جو یہ ہے کہ ” پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی ، تو ہمیں زلزلہ کا وقت بھی معلوم ہو جاتا ہے۔کیونکہ الہام میں زلزلہ کا 66