انوارالعلوم (جلد 13) — Page 45
۴۵ 3 انوار العلوم جلد ۳ غیر مسلموں میں تبلیغ کیلئے زریں ہدایات لوگوں نے مل کر اس کی مخالفتیں کیں۔وہ سمجھتے تھے کہ اسے تباہ کر دیں گے مگر آخر وہ خود هَبَاءً 1 ہو گئے لیکن اسے اللہ تعالیٰ نے ترقی دی۔وہ بڑھا ، پھولا اور پھلا دنیا کے کناروں سے اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس کے پاس لایا، بڑوں کو بھی اور چھوٹوں کو بھی ، عالموں کو بھی اور جاہلوں کو منثورا بھی غور کرو یہ کیا چیز ہے۔تمہارے بھی آخر بزرگ ہوئے ہیں۔پنڈت دیا نند صاحب کو ہی لے لو اور دیکھو کہ مذہبی لحاظ سے ان کے ماننے والے کم ہورہے ہیں یا بڑھ رہے ہیں، حالانکہ شروع میں ہی راجے اور مہاراجے ان کے ساتھ شامل ہو گئے تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ماننے والوں کی تعداد کئی سال تک چند سو سے نہ بڑھ سکی مگر پھر بھی دیکھو، اللہ تعالیٰ انہیں کس طرح ترقی دے رہا ہے۔پھر انہیں یہ بتاؤ کہ یہ مت خیال کرو ہم پڑھے لکھے نہیں ہر ایک کے لئے اللہ تعالیٰ سے ملنے کا رستہ کھلا ہے۔غرضیکہ ایک طرف انہیں امید کا پیغام د واور دوسری طرف خوف کا۔انہیں سمجھاؤ کہ جب تک کوئی نبی مبعوث نہ ہو، اُس وقت تک اور بات ہوتی ہے لیکن جب نقارہ بج جائے تو گھر میں بیٹھنے والا مستوجب سزا ہوتا ہے۔باقی تناسخ وغیرہ مسائل پر بخشیں کرنا یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔خواہ ہمارا مولوی کرے یا ان کا۔ہم بھی بے شک ایسا کرتے ہیں مگر اسی طرح جس طرح پتھر مارنے والوں کو جواب دیا جاتا ہے۔پتھر مارنا شرفاء کا شیوہ نہیں مگر جوابی رنگ میں بعض اوقات مارنا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے شریف سے شریف انسان کو بھی مجبوراً دس پندرہ منٹ پاخانہ میں بیٹھنا پڑتا ہے لیکن کون ایسا احمق ہے جو شوقیہ طور پر وہاں جا کر بیٹھے۔پس ان باتوں میں نہ پڑو ہاں اگر دشمن ایسے رنگ میں اعتراض کرے اور کسی طرح پیچھا نہ چھوڑے تو اور بات ہے۔وگرنہ سادہ باتیں اور عام فہم دلائل پیش کرو۔یہی گر ہے جس سے نبی کامیاب ہوئے۔فلسفہ نے دنیا میں کوئی جماعت پیدا نہیں کی۔ارسطو کی دنیا میں کوئی جماعت نہیں مگر موسیٰ و ابراہیم کی ہیں جماعت ہمیشہ وہی بنا سکتے ہیں جو خدا کی قدرت پر بنیادیں رکھتے ہیں۔اردگرد کے دیہات میں عام طور پر یہ بھی احساس ہے کہ ہم ان کے دشمن ہیں۔ان کی اس غلط نہی کو دور کرو اور بتاؤ کہ ہمارے دل میں تو ماں باپ سے بھی زیادہ محبت ہے۔یہ ذریعہ ہے جس سے تم کامیاب ہو سکتے ہو۔اس کے بعد میں دعا کرتا ہوں۔سب اس میں شریک ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے