انوارالعلوم (جلد 13) — Page 455
انوار العلوم جلد ۱۳ 455 ڈاکٹر سر محمد اقبال اور احمد یہ جماعہ اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ ڈاکٹر سر محمد اقبال اور احمد یہ جماعت (1) سر محمد اقبال صاحب کو کچھ عرصہ سے میری ذات سے خصوصاً اور جماعت احمد یہ سے عموماً بغض پیدا ہو گیا ہے اور اب ان کی حالت یہ ہے کہ یا تو کبھی وہ انہی عقائد کی موجودگی میں جو ہماری جماعت کے آب ہیں جماعت احمدیہ سے تعلق مؤانست اور مؤاخات رکھنا بُر انہیں سمجھتے تھے۔یا اب کچھ عرصہ سے وہ اس کے خلاف خلوت و جلوت میں آواز اُٹھاتے رہتے ہیں۔میں ان وجوہ کے اظہار کی ضرورت محسوس نہیں کرتا جو اس تبدیلی کا سبب ہوئے ہیں، جس نے ۱۹۱۱ ء کے اقبال کو جو علیگڑھ کالج میں مسلمان طلباء کو تعلیم دے رہا تھا کہ پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں، ۱۹۳۵ء میں ایک دوسرے اقبال کی صورت میں بدل دیا جو یہ کہہ رہا ہے کہ :۔”میرے نزدیک قادیانیت سے بہائیت زیادہ ایماندارانہ ہے۔کیونکہ بہائیت نے اسلام سے اپنی علیحدگی کا اعلان واشگاف طور پر کر دیا لیکن قادیانیت نے اپنے چہرے سے منافقت کی نقاب الٹ دینے کے بجائے اپنے آپ کو محض نمائشی طور پر جز و اسلام قرار دیا اور باطنی طور پر اسلام کی روح اور اسلام کے تخیل کو تباہ و برباد کرنے کی پوری پوری کوشش کی۔۲ یعنی ۱۹۱۱ء کی احمد یہ جماعت آج ہی کے عقائد کے ساتھ صحابہ کا خالص نمونہ تھی لیکن ۱۹۳۵ء کی احمدیت بہائیت سے بھی بدتر ہے۔اس بہائیت سے جو صاف لفظوں میں قرآن کریم کو