انوارالعلوم (جلد 13) — Page 442
442 انوار العلوم جلد ۱۳ سید عطاءاللہ شاہ بخاری کے مقدمہ میں حضور کا بیان ہیں جو صدرا انجمن احمد یہ کے پاس ہیں۔میں نہیں جانتا کہ اپیلوں کے دائر کر نے پر فیس لی جاتی ہے۔محکمہ نقول قائم کرنے کے متعلق میں نے کوئی ہدایت نہیں دی ہوئی۔اور نہ میرے علم میں کوئی محکمہ ایسا ہے۔دستاویز پیش کردہ پر جو مہر ہے وہ محکمہ امور عامہ سے تعلق رکھتی ہے اور دوسری محکمہ قضاء سے تعلق رکھتی ہے۔ہمارے وہ احکام جو دیوانی معاملات کے متعلق ہوتے ہیں ان کی تعمیل اس طرح نہیں ہوتی جس طرح عدالت کے احکام کی (یعنی قرقی وغیرہ نہیں ہوتی ) لیکن اہم کاموں میں جو تعمیل نہیں کرتے ان کو ہم برادری سے خارج کرنے کے لئے کہتے ہیں۔فرعون لفظ کے کئی معنی ہیں۔اصطلاحی بھی اور وضعی بھی۔جو شخص جبر اور ظلم سے حکومت کرے اسے بھی فرعون کہہ لیتے ہیں۔مجھے معلوم نہیں کہ حضرت مرزا غلام احمد کو فرعون کہا گیا۔الفاظ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیگی سے یہ بھی مراد ہوسکتی ہے بشرطیکہ سیاق وسباق خلاف نہ ہو کہ کچھ ان میں سے ہم میں شامل ہو جائیں گے اور کچھ باقی رہ جائیں گے۔اور یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ اس جماعت میں اختلاف پڑ جائے گا۔خطبہ جو’ الفضل ۵۔اگست میں شائع ہوا ہے۔اور جس میں ذکر ہے کہ ہم کونے کے پتھر ہیں، میرا ہے اور یہ حصہ درست ہے۔جب میں نے ملزم کی تقریر پڑھی تو میں نے اسے قابلِ اعتراض پایا۔مگر اس کے فعل کے خلاف نفرت پیدا ہوئی اس کی ذات کے خلاف نفرت نہ پیدا ہوئی۔ایسے الفاظ جو اشتعال پیدا کرنے والے اور نفرت پیدا کرنے والے ہوں۔ان سے میرے دل میں ملزم کے خلاف نفرت و اشتعال اس لئے پیدا نہیں ہوا کہ میں نے اپنے نفس کو اس قابل بنایا ہوا ہے کہ کسی انسان کے خلاف میرے دل میں عداوت نہ پیدا ہو۔میں ملزم کی تقریر سے زبانی کوئی ایسا لفظ نہیں بتا سکتا جو اشتعال انگیز اور نفرت انگیز ہے۔اس موقع پر اخبار زمیندار ۱۴۔اکتوبر کا پرچہ پڑھنے کے لئے دیا گیا) میں نے ملزم کی تقریر کو جو پر چہ زمیندار ۲۴ اکتوبر میں ہے۔دیکھ لیا ہے۔اس کے بعض فقرات قابلِ اعتراض ہیں۔اور وہ یہ ہیں۔(۱) فرعونی تخت الٹا جا رہا ہے۔(۲) بعض مسلمان ایسے ہیں جو مرزائیت کو ایک مستقل لعنت سمجھتے ہیں۔