انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 437

437 انوار العلوم جلد ۱۳ سید عطاءاللہ شاہ بخاری کے مقدمہ میں حضور کا بیان تھے۔اس وقت محمد علی صاحب بھی آئے تھے۔میں نے اس واقعہ قتل سے ۲۰۔۱۳ روز قبل پبلک میں جو کچھ کہا تھا اس کا مطلب یہ تھا کہ مباہلہ والوں پر خدا تعالیٰ کا عذاب آسمان سے آئے گا۔وہ خدا کی گرفت میں آئیں گے نہ کہ انسانی عذاب میں۔الفضل یکم اپریل ۱۹۳۰ء میں مباہلہ والوں کے متعلق جو ذکر ہے وہ میری تقریر کا حصہ ہے اور درست ہے۔جب محمد علی صاحب جیل میں تھے تو مجھے اتنا یاد ہے کہ ان کا ایک خط میرے پاس آیا تھا جس میں انہوں نے یہ اقرار کیا تھا کہ مجھ سے یہ فعل احمدیت کی تعلیم کی نا واقفیت کی وجہ سے ہو گیا ہے اب میں نے سلسلہ کی کتابیں پڑھی ہیں اور مجھے اپنی غلطی کا علم ہوا ہے اور میں تو بہ کرتا ہوں۔دعا کریں خدا تعالیٰ میری غلطی معاف کر دے۔وہ چٹھی محفوظ نہیں۔کیونکہ اس پر تین چار سال گزر چکے ہیں البتہ میں نے اس کا ذکر اپنے ایک خطبہ میں کیا تھا۔اگر موقع ملے تو وہ پیش کر سکتا ہوں۔مولوی شیر علی صاحب صیغہ تالیف و تصنیف کے ناظر ہیں۔اپنی عدم موجودگی میں بعض اوقات میں نے ان کو قادیان کی جماعت کا امیر مقرر کیا۔(اس موقع پر ملزم کے وکیل نے حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کے کورٹ میں موجود ہونے پر اس لئے اعتراض پیش کیا کہ ان کو بھی گواہ کے طور پر پیش کرنا ہے۔مگر عدالت نے اس بناء پر اس اعتراض کو رڈ کر دیا کہ سرکاری وکیل کو ان کی موجودگی پر کوئی اعتراض نہیں ) ۱۸۔جولائی ۱۹۳۱ ء کے الفضل میں جو خطبہ چھپا ہے۔وہ میرا ہے اور یہی وہ خطبہ ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا تھا کہ پیش کر سکتا ہوں۔میں اس مسلمان کو جہنمی جانتا ہوں، جو دیدہ دانستہ کسی مسلمان کو قتل کرے اور پھر تو بہ نہ کرے۔تو بہ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی غلطی کا اقرار کرے اسے گناہ سمجھے اور اپنے اس فعل پر ندامت کا اظہار کرے۔سوال: آپ اس مسلمان کے متعلق کیا عقیدہ رکھتے ہیں یعنی اسے مسلمان مانتے ہیں یا کا فر جو کہ خدا کو ایک مانتا ہو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوخدا تعالیٰ کا آخری اور سچا پیغمبر جانتا ہو اور قرآن کو خدا کی سچی اور الہامی کتاب مانتا ہو نماز پڑھتا ہو مرزا غلام احمد صاحب کو