انوارالعلوم (جلد 13) — Page 436
انوار العلوم جلد ۱۳ 436 سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مقدمہ میں حضور کا بیان (الفضل ۲۶ مارچ ۱۹۳۵ء) ۲۵ مارچ ۱۹۳۵ء کی کارروائی سرکاری وکیل کے سوالات کے جواب میں یہ عام قاعدہ نہیں ہے کہ جس کا قرضہ جائیداد سے زیادہ ہو اور اس نے وصیت کرائی ہوئی ہو۔اس کے ترکہ سے کچھ نہ لیا جائے۔بعض اوقات کسی کی وصیت صدرانجمن منسوخ بھی کر دیتی ہے۔جہاں تک مجھے یاد ہے محمد علی صاحب نے اُس وقت وصیت نہ کی تھی جب کہ وہ جیل میں تھے بلکہ دیر کی ، کی ہوئی تھی۔میرے سامنے محمد علی صاحب کی وصیت منظوری کیلئے پیش نہ ہوئی تھی نہ کوئی اور پیش ہوتی ہے۔میں نے محمد علی صاحب کے مقدمہ کی پیروی کرنے کیلئے کسی کو مقرر نہیں کیا تھا۔مجھے ذاتی علم نہیں کہ جماعت نے اس کے مقدمہ کی پیروی کی۔میں نے سنا ہے کہ کی۔مرزا عبدالحق صاحب وکیل، مولوی فضل الدین صاحب پلیڈر، پیر اکبر علی صاحب ایڈووکیٹ جنہوں نے مقدمہ کی پیروی کی۔میری جماعت کے ہیں۔مولوی فضل الدین صاحب نے اس کا ذکر مجھ سے کیا۔پیرا کبر علی صاحب نے مجھے یاد نہیں کہ کہا ہو۔میں نے سنا ضرور تھا کہ انہوں نے پیروی کی۔مولوی فضل الدین صاحب کا عہدہ مشیر قانونی کا ہے۔مرزا عبدالحق صاحب کے متعلق مجھے معلوم نہیں کہ اُس وقت جماعت احمد یہ گورداسپور کے امیر تھے۔اس وقت وہ جماعت احمد یہ گورداسپور کے پریذیڈنٹ ہیں۔محمد علی صاحب کو سیشن کورٹ سے موت کی سزا ہوئی تھی۔مجھے یہ ذاتی علم نہیں ہے کہ میری جماعت نے ان کی ہائی کورٹ کی اپیل کیلئے چندہ کیا تھا۔میرا خیال ہے کہ پریوی کونسل میں اپیل نہیں کی گئی تھی۔یہ یاد ہے کہ کسی نے گورنر سے رحم کی درخواست کی تھی۔یہ معلوم نہیں کسی شخص کے نام پر وہ اپیل تھی۔محمد علی صاحب صوبہ سرحد کے رہنے والے تھے۔یہ مجھے معلوم نہیں کہ محمد علی صاحب واقعہ قتل سے کتنا عرصہ پہلے قادیان آئے تھے۔قادیان میں مجلس شوری ہوئی تھی۔جس میں بہت سے لوگ باہر کی جماعتوں کے آئے