انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 435

435 انوار العلوم جلد ۱۳ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مقدمہ میں حضور کا بیان جواب: میں نے اپنی بیویوں سے بعض اوقات بندوق چلوائی ہے اور جس گھر میں بندوق ہو اُس کی عورتیں کبھی چلا لیتی ہیں۔یوں عورتوں کیلئے اس قسم کا کوئی انتظام نہیں۔سوال: نعمت اللہ ڈرل ماسٹر ہے اور غلام نبی بھی ؟ جواب: میں ان کو جانتا ہوں۔نعمت اللہ ڈرل ماسٹر ہے سکول میں اور غلام نبی چوکیداروں کا دفعدار ہے۔سوال: یہ ٹھیک ہے کہ آپ نے اپنی جماعت کو کہا فوجی تعلیم سکھو؟ جواب: فوجی تعلیم سے آپ کی کیا مراد ہے۔کیا یہ کہ فوج میں بھرتی ہو جاؤ۔سوال: نہیں یہ کہ نشانہ وغیرہ سیکھو بندوقیں رکھو۔جواب: میں ہمیشہ کہتا رہتا ہوں کہ جن کو لائسنس مل سکتے ہیں ان کو بندوقیں لینی چاہئیں اور چلانی سیکھنی چاہئیں۔سوال: آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ تمام دنیا کو فتح کرلیں گے؟ جواب: ہر مذہب والے کو یہ سمجھنا چاہئے کہ چونکہ سچائی اُس کے پاس ہے وہ دنیا کو اپنا ہم خیال بنالے گا۔ہمارے پاس سچائی ہے ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ایک وقت سب دنیا ہمارے مذہب میں داخل ہو جائے گی۔سوال: آپ کو یاد ہے کہ ملا ئکتہ اللہ آپ کی کتاب ہے؟ جواب: یہ میرا لیکچر ہے۔سوال: اس میں آپ نے لکھا ہے کہ مجھے الہام ہوا ہے۔” زار روس کا سونٹا چھین کر مجھے دیا گیا۔جواب: یہ میرا الہام نہیں۔عدالت کا وقت ختم ہونے کی وجہ سے کارروائی بند کی گئی۔اور بیان سننے کے بعد ( حضرت صاحب ) نے لکھایا۔مجھے بعد میں محمد علی صاحب کی وصیت کے متعلق یاد آیا کہ ان کے متعلق یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ چونکہ وفات کے وقت ان کا قرضہ ان کے مال سے زیادہ ہو گیا ہے لیکن ان کی زندگی میں انجمن ان کی وصیت منظور کر چکی ہے اس لئے بہشتی مقبرہ میں ان کو دفن کیا جائے۔اس کے بعد پانچ بجے کے قریب حضور کچہری سے واپس تشریف لے آئے۔