انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 420

420 انوار العلوم جلد ۱۳ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مقدمہ میں حضور کا بیان جواب: یہ میرے الفاظ ہیں۔ان کے ساتھ یہ الفاظ میں درج کراتا ہوں۔جن میں ان کی تشریح کی گئی ہے۔کہ آج کل تو جسمانی مقابلہ ہے ہی نہیں اس لئے اس لحاظ سے بھی ہمیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ، جو الفاظ سوال میں پیش کئے گئے ہیں وہ قرآن کی ایک آیت کی تشریح ہے۔سوال: الفاظ میں جو لفظ مومن ہے۔یہ اپنے متعلق ہی سمجھتے ہیں یا دوسرے مسلمانوں کو بھی اس میں شامل کرتے ہیں۔احراریوں کی طرف تو نہیں منسوب کرتے۔جواب نہیں۔اپنی جماعت کے متعلق ہے۔اس فقرہ میں مومن کے لفظ سے مراد احراری نہیں۔سوال: الفضل کا ایک پرچہ دکھا کر پوچھا کہ اس میں زیر عنوان اسمبلی کے امیدوار اور احراری“ جو مضمون چھپا ہے۔اس کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں۔جواب : یہ میرا مضمون نہیں۔میں نے نہیں لکھا اور میں کہہ چکا ہوں میں الفضل کے ہر لفظ کا ذمہ وار نہیں۔سوال: ۹۔دسمبر ۱۹۳۴ء کے الفضل میں آپ نے اپنی جماعت کو ڈائنامیٹ سے تشبیہہ دی ہے۔عدالت نے کہا کہ یہ پر چہ داخل ہو چکا ہے۔سوال: کیا آپ نے ۹۔دسمبر سے پہلے بھی ڈائنامیٹ کا لفظ استعمال کیا ہے۔جواب: مجھے یاد نہیں۔احراری کا نفرنس سے پہلے یہ لفظ استعمال کیا ہو۔سوال: آپ کو انہی ایام میں جبکہ احرار کا نفرنس ہوئی۔شکایت تھی کہ آپ کے چند آدمی آپکی جماعت کے منافق ہیں۔آپ نے ان کو بڑا لتاڑا اور ان کے خلاف پُر زور خطبہ دیا۔پھر کہا۔آپ کو شکایت تھی کہ آپ کی جماعت میں منافق ہیں جو دوسروں کو شکایتیں پہنچاتے ہیں۔جواب: جس دن سے میں خلیفہ ہوا۔بعض لوگ ایسے چلے آتے ہیں اور ہر جماعت میں کچھ منافق ہوتے ہیں۔سوال: آپ نے اپنی جماعت کے رُوبرو خطبہ دیا جس میں زور دیا کہ منافقوں کا پتہ لگا ئیں مجھے معلوم ہے مگر میں بتا نا نہیں چاہتا۔جواب: اپنی جماعت کے کسی شخص نے جھوٹ بول دیا تو اسے ہم منافق کہیں گے۔دوسرے