انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 404

404 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات بہت بڑا امیر آدمی احمدی ہو جاتا ہے اور ایک ارب روپیہ دے دیتا ہے جب کہ جماعت بحیثیت جماعت قربانی نہیں کرتی تو کیا اس سے احمدیت کامیاب ہو جائے گی۔نہیں۔اس کے مقابلہ میں اگر ایک ہی غریب احمدی ہے اور وہ اپنے آپ کو قربانی کیلئے پیش کر دیتا ہے۔مثلاً اس کے پاس ایک ہی روپیہ ہے اور وہی دے دیتا ہے تو کامیابی حاصل ہو جائے گی۔پس میرا یہ مطالبہ ہے کہ ہر مومن اپنی جان اور اپنا تمام مال دے تب کا میابی ہوگی۔اگر کہو کہ بعض کی سستی اور کوتاہی کا الزام ہم پر کیوں رکھا جاتا ہے تو یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک مومن کا فرض ہے کہ دوسروں کو اپنے ساتھ آگے بڑھائے اور پیچھے نہ رہنے دے۔مومن کسی حال میں پیچھے نہیں رہتا اگر کوئی رہتا ہے تو اسی وجہ سے کہ اس کی تربیت نہیں ہوئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت شراب کے حرام ہونے کا جب حکم نازل ہوا تو کچھ صحابہ ایک جگہ بیٹھے شراب پی رہے تھے اور شراب کے نشہ میں مخمور تھے۔شراب کا نشہ کتنا بڑا ہوتا ہے۔اُس وقت ایک بازار سے یہ کہتا ہوا گزرا کہ اے مسلمانو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب حرام کر دی ہے۔اس مخمور حالت میں جب کہ کوئی اپنے ماں باپ کی بات سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتا ایک نے شراب کے نشہ میں کہا ذرا دروازہ کھولنا تا معلوم کریں کہ کہنے والے نے کیا کہا ہے۔دوسرا اُٹھا اور اُس نے کہا پہلے میں شراب کے مٹکے اور دوسرے برتنوں کو توڑوں گا اور پھر پوچھوں گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کہا ہے۔پس مومن کو جب آواز پڑے تو خواہ وہ دنیا کے نشے میں کتنا ہی مخمور ہو تو بھی اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ مومنوں تک آواز پہنچے۔ہمیں کافروں اور منافقوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ مومنوں کی ہے اور سب کے سب مومنوں کی ہے اسی لئے میں نے کہا تھا کہ آپس میں اگر کسی سے ناراضگی ہو تو صلح کر لو تا کہ سب کے سب مل کر آگے بڑھیں اور ایک جھنڈے کے نیچے جمع ہو جا ئیں۔پس جب سب مومن آ گئے تو ان کا سب مال آ گیا، تب فتح یقینی ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنا سارا مال مجھے دے دیں بلکہ یہ ہے کہ وہ سمجھیں ان کے پاس جو کچھ ہے میرا ہی ہے۔پس سب کے سب مومنوں کو ساتھ لے کر اُٹھو اور مل کر آگے قدم بڑھاؤ۔اگر کسی کو کسی سے ناراضگی ہو تو اسے دور کر دو۔دیکھو جن بچوں کے ماں باپ مر جاتے ہیں، وہ آپس میں ایک دوسرے سے کس طرح پیار و محبت کرتے ہیں۔اگر ان کے ماں باپ کو گالیاں دی جارہی ہوں اور وہ کچھ نہ کرسکیں تو کیا کریں گے۔یہی کہ ایک دوسرے سے چمٹ کر رونے لگ جائیں گے۔میں نے وہ بچے دیکھے ہیں جو ماں کے مر