انوارالعلوم (جلد 13) — Page 398
انوار العلوم جلد ۱۳ 398 حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمد یہ کو اہم ہدایات فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِی ۔ پس اے میرے بندے ! تو نے شیطان سے بہت دکھ اُٹھائے اور میرا وعدہ تھا کہ إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَان جب کوئی میرا بندہ بن جاتا ہے تو پھر شیطان اُس پر قبضہ نہیں کر سکتا آج میں تجھے اپنے بندوں میں داخل کرتا ہوں اور جب تو میرا بندہ بن گیا تو یہ میری جنت تیری ہوگئی ۔ پس فرمایا کہ جب جنت مل جائے خواہ اس دنیا میں خواہ اگلی دنیا میں، پھر انسان شیطان کے حملہ سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے حضرت آدم کو جب جنت سے نکالا گیا تو شیطان نے کہا ۔ رَبِّ فَانْظُرُ نِي إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ۔ کہ آپ ان بندوں پر اعتبار کرتے ہیں مجھے يُبْعَثُونَ تک موقع دیں تا کہ میں ان کو گمراہ کرنے کی کوشش کروں ۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا۔ فَإِنَّكَ مِنَ الْمَنْظَرِينَ " تمہیں ڈھیل ہے جاؤ۔ جو کچھ کر سکتے ہو کر لو۔ لوگ کہتے ہیں خدا تعالیٰ نے شیطان کو انسانوں کے پیچھے لگا دیا۔ مگر دیکھو شیطان ہی آ کر مومن کو جنت تک پہنچا گیا۔ شیطان پیچھے لگا تو مومن آگے بھاگا اور بھاگتے بھاگتے خدا تعالیٰ تک پہنچ گیا اور خدا تعالیٰ نے اُسے کہہ دیا یہ ہے جنت کا دروازہ اس میں داخل ہو جاؤ۔ گویا وہی شیطان جس نے آدم کو جنت سے نکالا تھا خدا تعالیٰ نے ایسی تدبیر کی کہ اسی کے ذریعہ بندوں کو جنت میں داخل کر دیا۔ پس معلوم ہوا کہ تقدس گھر بیٹھے سیجوں پر نہیں ملتا بلکہ کانٹوں پر کوٹنے اور تلواروں کے نیچے گردن رکھنے سے ملتا ہے اور یہ کانٹے شیطان بچھاتا اور یہ تلواریں شیطان چلاتا ہے۔ شیطان کرتا ہے تو مومن جنت کی طرف دوڑتا ہے اور : ہے اور جنت کے قریب ریب ہوتا جاتا ہے حتی کہ اس میں حملہ داخل ہو جاتا ہے ۔ پس یہ جو کچھ ہمارے خلاف ہو رہا ہے۔ یہ اخبار ”زمیندار“ ”احسان اور حکومت کے غدار افسر نہیں کر رہے بلکہ خدا تعالیٰ کی وہی سنت اپنا کام کر رہی ہے جس کے متعلق آتا ہے ۔ ام حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَا تِكُمْ مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ جِب تم ان مصائب اور مشکلات میں سے گزرو گے تب جنت میں داخل ہو سکو گے ۔ مجھے مولوی عبد الکریم صاحب کا ایک لطیفہ نہیں بھولتا جو یہاں خوب چسپاں ہوتا ہے ۔ ایک صاحب جو اب بھی زندہ ہیں، اُس وقت نو عمر لڑکے تھے، مسجد مبارک میں بیٹھے دعائیں کر رہے اور