انوارالعلوم (جلد 13) — Page 397
397 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات یہاں تک کہ رسول اور اُس کے ساتھ والے پکار اٹھے۔کہ مَتى نَصْرُ اللهِ اے خدا ! ہماری مصیبتیں انتہاء کو پہنچ گئیں۔تیری نصرت کہاں ہے۔جب یہ وقت آ جائے ساری مصیبتیں آ جائیں، پاؤں لڑکھڑانے لگیں، دشمن اپنے سارے حربے استعمال کر چکے جسم آگے چلنے سے انکار کر دیں دشمن کے گتے یعنی تمام اخلاق کو بالائے طاق رکھ کر ظلم کرنے والے لوگ اپنے قریب پہنچتے ہوئے نظر آئیں، جسم بالکل جواب دے بیٹھے تو بے اختیار دل سے نکلتا ہے۔اے خدا! تو کہاں ہے؟ اُس وقت خدا تعالیٰ کہتا ہے۔اَلَا اِنَّ نَصْرَ اللهِ قَریب گھبراؤ نہیں میں یہ تمہارے قریب ہی ہوں۔تب سنت اللہ یہ ہے کہ جنگل بیابان میں جہاں پانی کا بھی نشان نظر نہیں آتا جنت بنا کر مومنوں کے پاس رکھ دی جاتی ہے۔جگہ کے لحاظ سے نہیں بلکہ حقیقت کے لحاظ سے۔چنانچہ آتا ہے۔وَادَ الْجَنَّةُ الفَتْ ) کہ مومن کے پاس جنت لائی جاتی ہے مومن کو وہاں نہیں لے جایا جا تا۔جب مصائب انتہاء کو پہنچ جائیں تو پھر چلنے کی طاقت نہیں ہوتی کہ مومن چل کر جنت میں جا سکے اس لئے جنت مومن کے پاس لائی جاتی ہے۔وہ جن کے دل میں آخر تک کسی قسم کی بدظنی نہیں آتی ، وہ جو خدا تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھتے ہیں، وہ جو دین کے لئے ہر ایک قربانی کرنا اپنے اوپر خدا تعالیٰ کا احسان سمجھتے ہیں، خدا تعالیٰ اُن کو جنت کے دروازہ پر کھڑا کر دیتا ہے اور کہتا ہے۔فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي " اے میرے بندے ! اب تو میرے بچے بندوں میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔پس وہ بے کس اور بے بس انسان جو مصائب کا مقابلہ کر کر کے تھک جاتا ہے، جس کا جسم چور چور ہو جاتا ہے اور جو خدا تعالیٰ کے آگے گر جاتا ہے اس کے لئے خدا تعالیٰ جنت سمیت سامنے آ کھڑا ہوتا ہے اور اسے کہتا ہے۔يَا يَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِى ها کہ اے وہ جو نفس مطمئنہ تھا یعنی جو مصائب اور مشکلات میں مبتلاء ہونے پر بھی خوب مضبوط تھا۔مطمئن کے معنی ہیں وہ جو ہلتا نہیں۔پہلے بتایا تھا کہ مومن کو ہلایا جاتا ہے۔اب فرماتا ہے شیطان کی ذریت نے سارا زور لگایا کہ تجھے ہلائے مگر تو اپنی جگہ پر قائم رہا۔دنیا نے تیری قدر نہ کی مگر تیرا پیدا کرنے والا رب تجھے نہیں چھوڑے گا۔تو اپنے رب کی طرف آجا۔تیرے رب نے اتنی مصیبتوں اور مشکلات کے ذریعہ تیرا امتحان لیا اور تو پھر بھی خوش ہی رہا۔جب تو اس حالت میں بھی اتنا خوش رہا تو جو کو تا ہیاں تجھ سے ہوئی ہیں، میں بھی ان کی وجہ سے ناراض نہیں بلکہ تجھ پر خوش ہوں فَادُ خُلِى