انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 388

388 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات گا۔ہر احمدی کے گھر کی تلاشی لے لی جائے کہ کس قدر نیزے احمدیوں کے گھروں میں ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ جب آپ نے کہہ دیا کہ ایسا نہیں تو اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہوسکتا ہے۔کوئی افسر نہیں جو آپ کے انکار کو تسلیم نہ کرے گا لیکن مقامی حکام نے اس خبر کی جو شائع ہوئی تھی کوئی تردید نہ کی بلکہ جب بعض حکام کو سلسلہ کے نمائندوں نے کہا کہ آپ ان شخصوں پر مقدمہ کیوں نہیں چلاتے جن کے پاس سے نیزے نکلے تھے۔تو وہ بے اختیار بول اُٹھے کہ اصل بات یہ ہے کہ وہ نیز نہیں، کھڈ سٹک تھی اور قانو نا اس پر مقدمہ نہیں چل سکتا مگر باوجود اس کے اس خبر کی تردید نہ کی گئی اور ہمارے ساتھ وہی معاملہ کیا گیا جیسا کہ کہتے ہیں ایک شخص کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔وہ کہنے لگا خدا کی قسم فلاں جگہ اتنی سخت لڑائی ہوئی ہے کہ کئی لاشیں پڑی ہیں۔جب اس سے پھر پوچھا گیا تو کہنے لگا قرآن کی قسم سینکڑوں زخمی ہو گئے ہیں۔اسے کہا گیا اپنی جان کی قسم کھا کر بتا ؤ تو کہنے لگا صرف دو آدمی مارے گئے ہیں۔پھر کہا گیا سچ سچ بتاؤ تو کہنے لگا ایک آدمی کے خراش آئی ہے اور جب کہا گیا کہ صحیح صحیح بتا ؤ بات کیا ہے تو کہنے لگا دو بلیاں لڑ رہی تھیں۔جس رنگ میں ہم نے خبر سنی تھی، ہر تحقیق کے بعد اس میں کمی آتی گئی مگر جن لوگوں نے یہ سب جھوٹ بولا تھا، انہیں کوئی باز پرس نہ ہوئی اور اخباری لحاظ سے یہ خبر اب تک قائم ہے اور ایک پُر امن سلسلہ کے نام پر ایک بدنما دھبہ۔ہم نہیں جانتے کہ یہ خبر ایسوسی ایٹڈ پریس میں کس نے شائع کرائی مجسٹریٹ علاقہ نے یا ڈپٹی کمشنر نے یا سپر نٹنڈنٹ پولیس نے۔بے شک ہم بھی دریافت کر سکتے تھے کہ یہ بات کس نے بنائی اور پھیلائی لیکن اگر ہم ایسا کرتے تو جھٹ رپورٹ کر دی جاتی کہ سرکاری آدمیوں کے کام میں دست اندازی کی جاتی ہے۔اس کے متعلق حکومت ہی پتہ لگا سکتی تھی اور معلوم کر سکتی تھی کہ کس نے جھوٹ بولا اور ایسوسی ایٹڈ پریس کو کس نے یہ خبر مہیا کی۔مگر باوجود ہمارے بار بار کہنے کے توجہ نہیں کی جاتی۔اس کی وجہ سوائے اس کے اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایسے افسر ہیں جو ہم سے دشمنی رکھتے ہیں اور وہ حکومت کے بھی وفادار نہیں ہیں اور وہ اس قسم کی تحقیق سے حکام بالا کو باز رکھتے ہیں۔غرض ہمارے خلاف ایسی کارروائیاں کرائی جارہی ہیں جو سخت اشتعال دلانے والی اور فتنہ کو انگیخت کرنے والی ہیں۔میں اس وقت ان کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔بعض کے متعلق تو میں اپنے خطبات میں بیان کر چکا ہوں اور بعض کے متعلق جو شکوہ تھا اس کی نسبت میں نے لکھ دیا