انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 380

380 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات جو حکومت کے وفادار نہ تھے انہوں نے احراریوں سے مفاہمت شروع کر دی اور یہ یقینی طور پر معلوم ہو گیا ہے کہ انہوں نے کوشش کی کہ جس طرح بھی ممکن ہوا حراریوں کا زور بڑھائیں اور احمدیوں کا زور کم کریں۔اس کا نظارہ ہم نے قادیان میں بھی دیکھا۔احراری حکومت کے کھلے مخالف ہیں اور قدم قدم پر حکومت کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔کشمیر ایجی ٹیشن انہوں نے شروع کی حکومت کو انہوں نے دھمکیاں دیں اور حکومت کے لاکھوں روپے انہوں نے خرچ کرائے مگر وہی احراری جن کا مقابلہ حکومت کے ساتھ تھا اور جو یہ کہتے تھے کہ ہم حکومت کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیں گئے، ہم نے دیکھا کہ جب ان کی شرارتوں کے متعلق بعض مقامی افسروں سے شکایت کی جاتی تو وہ احراریوں کی پیٹھ ٹھونکتے اور ان کی طرف سے عذرات پیش کرنے شروع کر دیتے۔اور اگر کوئی عذر نہ پیش کر سکتے تو یہی کہہ دیتے کہ بیوقوف بھی دنیا میں ہوتے ہیں آپ کی جماعت بڑی فراخ دل اور تعلیم یافتہ ہے۔اسے ان لوگوں کے ساتھ فراخ دلی کا سلوک کرنا چاہئے۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ پولیس کے بعض افسر اور دوسرے سول کے بعض افسر جنہیں تنخواہیں تو اس کام کے لئے ملتی ہیں کہ امن قائم رکھیں مگر وہ امن شکنوں کے ساتھ ساز باز رکھتے تھے اور ان لوگوں سے ملے ہوئے تھے جو گورنمنٹ کو اُلٹنے کا ارادہ رکھتے اور اس کے لئے کوششیں کرتے رہے ہیں۔متواتر ان لوگوں نے قادیان میں آکر شورش کرنی چاہی، فساد پھیلانا چاہا بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی مگر بعض افسران کی پیٹھ ٹھونکتے رہے۔حکومت کے افسروں میں اچھے بھی ہوں گے مگر اس وقت میں بُرے لوگوں کا ذکر کر رہا ہوں۔اچھوں کی ہم بہت تعریفیں کر چکے اور کرتے رہیں گے مگر اس وقت ہم مجبور ہیں کہ بُر وں کا ذکر کریں۔غرض اس وقت ہماری جماعت پر جو حملہ کیا جا رہا ہے وہ ایک جماعت کی طرف سے ہے اور ہر جگہ حملہ کیا جا رہا ہے پہلے اگر بٹالہ کے احمدیوں کو مارا اور گالیاں دی جاتیں اور اس کی طرف حکومت کو توجہ دلائی جاتی تو افسر کہہ دیتے کہ ہم توجہ کریں گے یا کہہ دیتے ہم کچھ نہیں کر سکتے اسی طرح اگر کسی اور جگہ احمدیوں کے خلاف شورش ہوتی اور حکام کو توجہ دلائی جاتی تو وہ طفل تسلی دے دیتے یا کچھ نہ کچھ شرارت کا انسداد کر دیتے۔اگر کوئی افسر جماعت احمدیہ سے کینہ رکھتا تو کہہ دیتا ایسی باتیں ہوتی ہی رہتی ہیں اور اگر شریف ہوتا اور اپنے فرض کو سمجھتا تو کچھ نہ کچھ نوٹس لے لیتا اور اس طرح بات طے ہو جاتی کیونکہ اس وقت شرارت مقامی ہوتی ساری جماعت کے خلاف نہ ہوتی تھی۔ہر مقام کے متعلق افراد کی کوشش افراد کے خلاف ہوتی مگر آج کل کئی جماعتیں ہیں جو