انوارالعلوم (جلد 13) — Page 379
379 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے اس کے آنے سے پہلے اس کے لئے تیاری نہیں کی تھی اگر جماعت کے لوگ اس کے لئے پہلے سے تیاری کر چکے ہوتے تو آج کسی قسم کے فکر کی ضرورت نہ ہوتی اور کسی رنگ میں بھی دشمن کو حملہ کرنے کی جرات نہ ہوتی اور اگر جرات کرتا تو اسے فوراً معلوم ہو جاتا کہ جماعت احمدیہ پر ہاتھ ڈالنا معمولی بات نہیں ہے لیکن باوجود بار بار توجہ دلانے کے اور بار بار آگاہ کرنے کے کہ دشمن تیاری کر رہا ہے، جماعت کے اکثر افراد نے اس بات کو عارضی خطرات کی تنبیہہ سمجھا اور مستقل خطرہ کی طرف توجہ نہ کی۔آخر بعض مسلمان کہلانے والوں نے محسوس کیا کہ جماعت احمد یہ اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ اگر اس سے آگے بڑھ گئی تو اس کا مٹانا اور اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے گا اس لئے انہوں نے تنظیم کر کے اور ایسے لوگوں کی مدد لے کر جو بظا ہر ہمارے دوست بنے ہوئے تھے مگر اندرونی طور پر دشمن تھے ہمارے خلاف اڈا قائم کر لیا اور ایسی تنظیم کی جس کی غرض احمدیت کو کچل دینا ہے۔۱۹۳۲ء میں تحریک کشمیر کے دوران میں ایک دن سرسکندر حیات خان صاحب نے مجھے کہلا بھیجا کہ اگر کشمیر کمیٹی اور احرار میں کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو حکومت کسی نہ کسی رنگ میں فیصلہ کر دیگی اس بارے میں دونوں کا تبادلہ خیال چاہتا ہوں، کیا آپ شریک ہو سکتے ہیں؟ میں اُس وقت لاہور میں ہی تھا میں نے کہا مجھے شریک ہونے میں کوئی عذر نہیں۔میٹنگ سر سکندر حیات خان صاحب کی کوٹھی پر ہوئی اور میں اس میں شریک ہوا۔چودھری افضل حق صاحب بھی وہیں تھے باتوں باتوں میں وہ جوش میں آگئے اور کہنے لگے ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ احمدی جماعت کو کچل کر رکھ دیں۔میں نے اس پر مسکر اکر کہا اگر جماعت احمد یہ کسی انسان کے ہاتھ سے پھلی جاسکتی تو کبھی کی پچھلی جا چکی ہوتی اور اب بھی اگر کوئی انسان اسے کچل سکتا ہے تو یقینا وہ رہنے کے قابل نہیں ہے۔یہ پہلی کوشش تھی۔پھر احرار نے جماعت احمدیہ کو کچلنے کی مزید کوشش شروع کی اور یہ عجیب بات ہے کہ وہی احراری جو اپنی دوسری تحریکات کے لئے جب کوشش کرتے تو انہیں روپیہ نہیں ملتا تھا انہوں نے جب جماعت احمدیہ کے خلاف کوشش شروع کی تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے لئے بہت بڑے خزانہ کا دروازہ کھول دیا گیا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک خاص طبقہ اندر ہی اندر ان کی مدد کر رہا اور انہیں روپیہ دے رہا ہے تا کہ جماعت احمدیہ کی مخالفت کی جائے۔مذہبی مخالفت ایک ایسی چیز ہے کہ اس میں افسر اور غیر افسر کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔جب احراریوں نے جماعت احمدیہ کے متعلق مذہبی مخالفت کا سوال اُٹھایا تو حکومت کے بعض گلن پُرزے