انوارالعلوم (جلد 13) — Page 377
377 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات کھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔مکہ میں جو صاحب حیثیت لوگ ہوتے ہیں، وہ بھی قربانیاں کرتے ہیں اور ان ایام میں قریباً سب ہی حیثیت والے ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ باہر سے آنے والے حاجیوں کو کوٹ رہے ہوتے ہیں۔پھر حاجی قربانیاں کرتے ہیں اور بعض دفعہ وہاں جمع ہونے والے انسانوں کی تعداد سے بھی قربانیاں بڑھ جاتی ہیں کیونکہ بعض لوگ ماں باپ کی طرف سے اور اپنے دوستوں کی طرف سے بھی قربانیاں کرتے ہیں۔میں جب حج کے لئے گیا تو میں نے سات قربانیاں کی تھیں، ایک رسول کریم علی اللہ کی طرف سے ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے ایک والدہ صاحبہ کی طرف سے ایک حضرت خلیفہ اول کی طرف سے ایک اپنی طرف سے ایک اپنی بیوی کی طرف سے اور ایک جماعت کے دوستوں کی طرف سے۔تو وہاں اس قسم کی قربانیاں اتنی کثرت سے ہوتی ہیں کہ کھانے والے اتنے نہیں ہوتے جتنے بکرے وغیرہ ذبح ہوتے ہیں۔کئی لوگ جو نئی تہذیب کے دلدادہ کہلاتے ہیں یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ اسراف ہے جو جائز نہیں۔حالانکہ بعض حالتوں میں اسراف بھی مفید ہوتا ہے اور کبھی یہ سکھانا بھی ضروری ہوتا ہے کہ ضائع ہونے دو جو ضائع ہوتا ہے کیونکہ ہر ایک شخص اسراف اور ضروری اخراجات میں فیصلہ نہیں کر سکتا۔بعض اوقات ایک شخص ضروری اخراجات کو بھی اسراف سمجھ لیتا ہے اور نیکی کے حصول سے محروم رہ جاتا ہے۔ایسے لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ اگر انہیں کسی موقع پر خرچ کرنا اسراف نظر آئے تو بھی کرنا چا ہے۔پس جن دوستوں کو باوجود میری کوشش کے آواز نہ پہنچے وہ بھی بیٹھے رہیں تا کہ ان کے اٹھنے سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو۔اس وقت میرے ارد گرد دوستوں نے کئی ایک کتا بیں رکھ دی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کوشش کی کہ پھلدار درخت لگائیں اب ان درختوں کو پھل آ گیا ہے مگر وہ جھڑتا نہیں آپ سوٹا لے کر اس پھل کو جھاڑ دیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ایسی رسم ہو گئی ہے جس کے متعلق مجھے احتیاط کرنی چاہئے۔اس لئے میں صرف اتنی اطلاع دینے پر اکتفاء کرتا ہوں کہ کئی دوستوں نے کتابیں شائع کی ہیں اور میں سمجھتا ہوں بعض کتابیں مفید اور بعض بہت مفید بھی ہیں اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہتا گویا مجمل سفارش کرتا ہوں اور آئندہ کوشش کروں گا کہ ابتدائی خطبہ بجائے خلیفہ کے خطبہ کے، نیلام کرنے والے کا خطبہ نہ بن جائے اور آئندہ کوشش کروں گا کہ مجمل سفارش کو بھی ترک کر دوں۔اس وقت اتنی سفارش کرتا ہوں کہ سلسلہ کے لٹریچر کی اشاعت مفید اور ضروری ہے اور جو مفید لٹریچر