انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 373

373 انوار العلوم جلد ۱۳ مستورات سے خطاب اور تھوڑی دور جا کر پھر واپس آتا کہ شاید حضور نے سنا نہ ہو اور پھر سلام کر کے منہ دیکھتا کہ شاید ہونٹ ہلیں اور آہستہ سے جواب دیتے ہوں۔غرض با وجود زمین وسیع ہونے کے ہم پر تنگ تھی۔ایک روز صبح کے وقت جب ہمارے گناہوں کی معافی کا حکم نازل ہوا تو بہت سے لوگ خبر دینے کیلئے دوڑے۔ایک شخص بہت ہوشیار تھا۔وہ ایک چھت پر چڑھ گیا اور چلا یا اے مالک! تیرا قصور خدا نے معاف کر دیا ( میں اس لئے یہ بتلا رہا ہوں کہ مال روک ہو جاتا ہے۔دیکھو غریب لوگ چل پڑے لیکن جو مالدار تھا مال اُس کی راہ میں روک ہو گیا ) جو آدمی سب سے پہلے میرے پاس آیا میں نے اُس کو ایک جوڑا دیا اور کہا میرے پاس یہی مال ہے باقی سب دولت باغ و زمین چونکہ یہی سامان میرے راستے میں روک ہوئے میں نے عہد کر لیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپر د کر دوں گا تو یہی جوڑا میرا مال ہے جو میں آپ کو دیتا ہوں گے۔اس تاریخی واقعہ سے فائدہ اُٹھاؤ اور یہ اقرار کرو کہ ہم کھانے پینے میں سادگی اختیار کریں گی ایک کھانا کھا ئیں گی۔اکثر زمیندار عورتیں بھی کئی قسم کی سبزیاں پکا لیتی ہیں ہر احمدی بچہ دعورت اقرار کرے کہ لباس سادہ رکھیں گے۔جتنے جوڑے پہلے بناتے تھے اب کم بنائیں گے اور گوٹہ کناری آئندہ نہ خریدیں گے پہلا بنا ہوا منع نہیں۔ڈاکٹر ایسے نسخے تجویز کریں جو ہلکی قیمت کے ہوں کھیل تماشے نہ دیکھیں، بیاہ شادی میں نقد روپیہ دیں یا بالکل تھوڑا روپیہ دیں، رسم و رواج میں مکان کی آرائش پر زیادہ نہ خرچ کریں، اگر کوئی چیز ٹوٹ پھوٹ جائے تو بنا سکتے ہیں، اس میں بہت سے حکم امراء کے لئے ہیں، کچھ درمیانے لوگوں کیلئے کچھ غرباء کیلئے جو بچت ہو اس کی جائدادیں بنائی جائیں، اس طرح اس میں غرباء عورتیں بھی شامل ہوسکتی ہیں۔گاؤں کی عورتیں باہم مل جائیں اور دو دو روپے ملا کر ایک رقم جمع کریں اور دو سو کی کوئی جائداد لے لیں اور کرائے کی جو آمد ہو اُس کو آپس میں تقسیم کر لیں۔اگر کسی وقت چندے کی ضرورت ہو تو اس میں سے دے سکتی ہیں۔اگر اسی طرح ہر ایک شخص کچھ نہ کچھ بچا کر اپنی جائیدادیں بنانے لگ جائے تو تھوڑے عرصہ میں بہت کچھ بنا سکتے ہیں۔پھر جب مالی حالت مضبوط ہو جائے گی تو خدمت دین کا بھی موقع مل جائے گا۔اگر ہزار کا زیور کسی جائیداد کی صورت میں تبدیل کر لیں تو پانچ روپے ماہوار کم از کم آمد ہو سکتی ہے لیکن میں یہ حکم نہیں دیتا کہ کمزور ابتلاء میں نہ پڑ جائیں۔کیونکہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ عورتوں کو زیورات اپنے عزیزوں سے زیادہ پیارے ہوتے ہیں۔تم میں سے اکثر ہیں جن کے زیور تو ہیں لیکن زکوۃ نہیں دیتی ہو۔اسی طرح سے تم ان عذابوں سے بچ جاؤ گی جو ز کوۃ نہ