انوارالعلوم (جلد 13) — Page 372
انوار العلوم جلد ۱۳ 372 مستورات سے خطاب کہتا ہوں کہ سادہ زندگی بسر کرو اور محنت کی عادت ڈالو۔اچھے کھانے کھانے والے یا جن کے گھر سامانوں سے بھرے پڑے ہوں وہ کس طرح ہجرت کریں گے (اگر ہجرت کی ضرورت پڑ جائے یا کسی کو دین کی خدمت کیلئے کسی دوسرے علاقے میں بود و باش رکھنی پڑے ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک دفعہ جانا پڑا اور بہیں ہزار مسلمان گئے تین مسلمان نہ گئے۔جو مسلمان نہ گئے وہ بہت مالدار تھے اُن کو یہ خیال تھا کہ ہمارے پاس بار برداری وغیرہ سب کچھ ہے ہم پیچھے جا شامل ہوں گے اور وہ اسی مال کے گھمنڈ میں نہ گئے۔حضور علیہ السلام کی عادت تھی کہ آپ ٹھہرتے ہوئے جایا کرتے تھے۔اس دفعہ آپ نے شہر کے قریب ڈیرہ نہ لگایا اور چلے گئے اور جب وہ اپنے گھروں سے پیچھے نکلے اور آپ کو نہ پایا۔راستہ میں خطرہ تھا آخر واپس آنا پڑا۔اللہ تعالیٰ کو اُن کا یہ فعل پسند نہ آیا اور پچاس دن کی سزا اُن کیلئے مقرر کی کہ کوئی ان سے کلام نہ کرے۔نوکر چاکر اور بیوی بچے اور کسی مسلمان کو اجازت نہ تھی کہ ان سے کلام کرے۔ایک مرد نے تو خود اپنی بیوی کو اُس کی ماں کے گھر بھیج دیا کہ ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں اور اس سے کلام کرلوں۔ایک شخص کو بولنے کی زیادہ عادت تھی۔وہ کہتے ہیں کہ میں سب سے بولتا اور کوئی مجھے جواب نہ دیتا۔ایک روز میں اپنے چچا زاد بھائی کے پاس گیا وہ اپنے باغ میں بیٹھا ہوا تھا اُسے کہا اے ا میرے بھائی! میرا کھانا اور میرا بیٹھنا ایک ہے اور تو میرا ہمراز ہے کیا میں منافق ہوں ؟ مطلب یہ تھا کہ اس کے منہ سے سن لوں کہ میں مؤمن ہوں یا منافق۔لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا تو آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر کہا اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔جب میں نے یہ رنگ دیکھا تو دل میں یہ کہتا تھا کہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں۔میری آنکھوں کے سامنے اتنا اندھیرا ہو گیا کہ مجھ کو اُس باغ کے دروازے نظر نہیں آتے تھے اور میں دیوار پھاند کر باہر آیا۔میں بازار سے گزر رہا تھا تو ایک شخص نے میری طرف اشارہ کر کے ایک دوسرے شخص کو بتایا کہ یہ ہیں۔اُس آدمی نے مجھے ایک خط دیا۔جب دیکھا تو وہ خط ایک بادشاہ کا تھا جس میں لکھا تھا سنا ہے کہ محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہاری عزت کا کوئی پاس نہیں کیا تم میرے پاس چلے آؤ۔تب میں سمجھا یہ شیطان ہے اور مجھ کو دھوکا دینا چاہتا ہے۔میں نے اُس آدمی کو کہا تم میرے پیچھے چلے آؤ اور جاتے جاتے جب میں ایک تنور کے پاس پہنچا تو وہ خط میں نے تنور میں ڈال دیا۔اُس کو کہا کہ جا اپنے بادشاہ کو کہہ یہ تیرے خط کا جواب ہے۔میں روز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاتا اور سلام کر کے حضور کا منہ دیکھتا شاید آہستہ سے جواب دیا ہوا ور چلا جاتا