انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 36

۳۶ انوار العلوم جلد ۱۳ قرآن کریم پر ستیارتھ پرکاش کے اعتراضات کی حقیقت بات تب درست ہوگی کہ جب آریہ پرتی ندھی سبھا اس اعتراض اور اس طرح دیگر گل اس قسم کے اعتراضات کے اخراج کاریز ولیوشن پاس کرے اور آئندہ ایڈیشن میں ستیارتھ پرکاش میں وہ درج نہ کئے جائیں ۔ اور نہیں ہے اللہ کہ خبردار کرے تم کو او پر غیب کے لیکن اللہ پسند کرتا پانچواں اعتراض ہے پیروں اپنے میں سے جس کو چاہتے ہیں ہے پیغمبروں اپنے میں سے جس کو چاہے پس ایمان لاؤ اوپر اللہ کے اور اس کے رسولوں کے (سورہ آل عمران: ۱۷) محقق ۔ جب مسلمان لوگ سوائے خدا کے کسی پر ایمان نہیں لاتے اور نہ کسی کو خدا کا شریک مانتے ہیں تو پیغمبر صاحب کو کیوں خدا کے ساتھ ایمان میں شریک کیا ہے؟ اللہ نے پیغمبروں پر ایمان لانا لکھا ہے اسی لئے پیغمبر بھی شریک ہو گیا ۔ پھر لا شریک کہنا ٹھیک نہ ہوا۔ اگر اس کا مطلب یہ سمجھا جائے کہ محمد صاحب کے پیغمبر ہونے پر ایمان لانا چاہئے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ محمد صاحب کی کیا ضرورت ہے۔ اگر خدا بلا پیغمبر کے اپنی خواہش کے مطابق کام نہیں کر سکتا تو ضرور خالی از قدرت ہوا۔ (صفحہ ۶۸۲) اس اعتراض میں پنڈت صاحب نے دو ایجادیں کی ہیں اور دونوں عجیب ہیں جواب اول تو یہ کہ خدا کے سوائے کسی اور سی اور پر ایمان لانا بڑا گناہ ہے اور شرک ہے لیکن آپ کو یہ سمجھ نہیں آئی کہ ایمان کہتے ہیں ماننے کو ۔ کیا پنڈت دیانند صاحب کے پیرو بتا سکتے ہیں کہ وہ خدا کے سوائے کسی اور چیز کو نہیں مانتے؟ اگر ایسا ہے تو خود آریہ سماج ہی کا ماننا اور یہ کہنا کہ آریہ سماج کوئی چیز ہے ، شرک ہو جائے گا ۔ ہو جائے گا ۔ کیونکہ وجود میں خدا اور آریہ اور آریہ سماج برابر ہو جائیں گے اور اگر خدا کے سوا کسی اور کی فرمانبرداری شرک ہے یا کسی کی بات ماننی شرک ہے تو والدین کی فرمانبرداری اور گورنمنٹ کی اطاعت اور خود پنڈت دیانند کی اتباع اور ویدوں کا اقرار سب شرک ہوگا اور کوئی کام نہ رہے گا جس میں شرک نہ ہو ۔ کھاتے پکاتے ہوئے شرک کرنا پڑے گا کہ ایک چیز آگ ہے پھر وہ جل کر دوسری اشیاء کو پکا دیتی ہے۔ پھر ایک چیز آٹا ہے جو کھانے سے پیٹ کو بھر دیتا ہے اور ان تمام اشیاء کا وجود ماننا اور ان کے خواص پر بھی یقین لا نا شرک ہوگا ۔ خود شرک کا ماننا یعنی شرک پر ایمان لانا شرک ہو جائے گا ۔ پانی پیتے ہوئے پانی کے وجود کا ایمان اور اس کے خواص پر یقین بھی شرک ہوگا اور ایک عجیب دور تسلسل ہو جائے گا ۔ شرک کی یہ تعریف تو نہیں کہ خدا کے سوائے کسی اور چیز کو نہ مانا جائے بلکہ شرک کی اصطلاحی تعریف یہ ہے کہ ان صفات