انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 361

361 انوار العلوم جلد ۱۳ بانی سلسلہ احمدیہ کی صداقت کے تین شاہد غرض یہ عجیب اور پُر لطف جنگ تھی کہ جو شخص جہاد کیلئے مسلمانوں کو بلا رہا تھا اور جہاد کو ہر زمانہ میں فرض قرار دے رہا تھا اُسے جہاد کا منکر کہا جاتا تھا اور جو لوگ نہ تلوار اٹھاتے تھے اور نہ قرآن کریم کا جہاد کر رہے تھے انہیں جہاد کا ماننے والا قرار دیا جاتا تھا مگر ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اس جنگ سے سلسلہ احمدیہ کے راستہ میں روکیں تو پیدا کی جاسکتی تھیں مگر اسلام کو کیا فائدہ تھا ؟ اسلام حضرت زین العابدین کی طرح میدان کربلا میں بے یارومددگار پڑا تھا اور مسلمان علماء جہاد کی تائید کا دعویٰ کرتے ہوئے اسلام کیلئے جہاد کرنے والوں کا مقابلہ کر رہے تھے اور دشمنانِ اسلام کیلئے انہوں نے میدان خالی چھوڑ رکھا تھا۔شاید کوئی یہ کہے کہ دوسرے مسلمان بھی تو تبلیغ کرتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اَلْاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَ رَائِهِ جہاد امام کے پیچھے ہوتا ہے بغیر امام کے نہیں اور مسلمان اس وقت کسی امام کے ہاتھ پر جمع نہیں۔پس ان کی تبلیغ تو بھاگی ہوئی فوج کے افراد کی منفر دانہ جنگ ہے۔کبھی اس طرح فتح حاصل نہیں ہوتی۔فتح تو منظم فوج کو ہوتی ہے جس کا افسر سب امور پر غور کر کے مناسب مقامات حملے کیلئے خود تجویز کرتا اور عقل اور غور سے جنگ کے محاذ کو قائم کرتا ہے۔پس بعض افراد کی منفردانہ کوششیں جہاد نہیں کہلاسکتیں۔آج اس قدر لمبے عرصہ کے تجربہ کے بعد سب دنیا دیکھ رہی ہے کہ عملی پر وگرام جو بانی سلسلہ نے قائم کیا تھا وہی درست ہے پچاس سال کے شور کے بعد مسلمان تلوار کا جہاد آج تک نہیں کر سکے کفر کا فتویٰ لگانے والے مولویوں میں کسی کو آج تک تلوار پکڑنے کی توفیق نہیں ملی۔قرآن کریم سے جہاد کرنے والے احمدیوں کو خدا تعالیٰ نے ہر میدان میں فتح دی ہے۔وہ لاکھوں آدمی ان مولویوں کی مخالفت کے باوجود چھین کر لے گئے ہیں اور یورپ اور امریکہ اور افریقہ میں ہزار ہا آدمیوں کو جو پہلے ہمارے آقا اور مولی کو گالیاں دیتے تھے حلقہ بگوشانِ اسلام میں شامل کر چکے ہیں اور وہ جو پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے تھے آج ان پر درود بھیج رہے ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ تنظیم کا نتیجہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ تنظیم کیوں پیدا ہوئی اور کیوں دوسروں سے تنظیم کی تو فیق چھن گئی ؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ قوت عملیہ پیدا کرنے کا صحیح نسخہ استعمال نہیں کیا گیا۔جس فوج کو مشق نہ کرائی جائے وہ وقت پر لڑ نہیں سکتی، جس قوم کو ہر وقت جہاد میں نہ لگایا جائے وہ خاص مواقع پر بھی جہاد نہیں کر سکتی پس اس معاملہ میں بھی فتح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو