انوارالعلوم (جلد 13) — Page 360
360 انوار العلوم جلد ۱۳ بانی سلسلہ احمدیہ کی صداقت کے تین شاہد کرنا ہر زمانہ میں ضروری ہے اسی طرح جہاد بھی ایسے اعمال میں سے ہے جس پر ہر زمانہ میں عمل کرنا ضروری ہے اور اسی غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے جہاد کی دوصورتیں مقرر کی ہیں، ایک جنگ کے ایام کیلئے اور ایک صلح کے ایام کے لئے۔جب مسلمانوں پر کوئی قوم اس وجہ سے حملہ آور ہو کہ کیوں انہوں نے اسلام کو قبول کیا ہے اور انہیں بزور اسلام سے منحرف کرنا چاہے جیسا کہ مکہ کے لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کیا تو اُس وقت ان کیلئے یہ حکم ہے کہ تلوار کا مقابلہ تلوار سے کریں اور جب غیر مسلم لوگ تلوار کے ذریعہ سے لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے نہ روکیں تو اُس وقت بھی جہاد کا سلسلہ ختم نہیں ہو جاتا۔اس وقت دلیل اور تبلیغ کی تلوار چلانے کا مسلمانوں کو حکم ہے تا کہ اسلام جس طرح جنگ کے ایام میں ترقی کرے صلح کے ایام میں بھی ترقی کرے اور دونوں زمانے اس کی روشنی کے پھیلانے کا موجب ہوں اور مسلمانوں کی قوت عملیہ کمزور نہ ہو۔یادر ہے کہ اس جہاد کا ثبوت قرآن کریم میں بھی پایا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے قرآن کریم کے متعلق فرماتا ہے۔فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيراً کے یعنی کفار کی باتوں کو مت مان بلکہ قرآن کریم کے ذریعہ سے ان سے جہاد کبیر کرتا چلا جایہاں تک کہ لوگوں کے دلوں پر فتح پالے۔افسوس کہ مسلمانوں کی عملی طاقتیں چونکہ ماری گئی تھیں ان کے لیڈروں نے اس مسئلہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت کی اور چونکہ وہ کام نہ کرنا چاہتے تھے اور یہ اقرار بھی نہ کرنا چاہتے تھے کہ وہ کام سے جی چراتے ہیں انہوں نے یہ عجیب چال چلی کہ لوگوں میں شور مچانا شروع کر دیا کہ بانی سلسلہ احمد یہ جہاد کے منکر ہیں حالانکہ یہ سراسر بہتان اور جھوٹ تھا۔بانی سلسلہ احمدیہ جہاد کے منکر نہ تھے بلکہ ان کا یہ دعویٰ تھا کہ جہاد باقی ارکانِ اسلام کی طرح ہر زمانہ میں ضروری ہے اور چونکہ تلوار کا جہاد ہر زمانہ میں نہیں ہوسکتا اور چونکہ جماعت کا سُست ہو جانا اس کی ہلاکت کا موجب ہو جاتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے جہاد کی دو قسمیں مقرر کی ہیں۔جب تلوار سے اسلام پر حملہ ہو تلوار کا جہاد فرض ہے اور جب لو ہے کی تلوار کا حملہ ختم ہو تو قرآن کریم کی تلوار لے کر کافروں پر حملہ کرنا ہمارا فرض ہے۔غرض جہاد کسی وقت نہیں چھوڑا جا سکتا۔کبھی مسلمانوں کو تلوار کے ذریعہ سے جہاد کرنا پڑے گا اور کبھی قرآن کے ذریعہ سے۔وہ جہاد کو کسی وقت بھی چھوڑ نہیں سکتے۔